حکام کا اعلان: افغان طالبان کے 50 اڈے تباہ، سرحدی محاذ پر جاری کارروائیاں
پاکستان فوج نے جاری آپریشن غضب للہ کے دوران افغان طالبان، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہند کے 50 پناہ گاہوں کو تباہ کر دیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، 3 اور 4 مارچ کی درمیانی رات بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے گئے، جس میں قلعہ سیف اللہ، چمن، سمبازہ، غدوانہ، جانی اور غزنیلی سیکٹرز میں مؤثر کارروائیاں ہوئیں۔ ان مقامات کو سرحد پار دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
سیٹلائٹ تصاویر میں تصدیق: بگرام ائیر بیس پر پاکستان کا کامیاب حملہ
نیو یارک ٹائمز کی حاصل کردہ سیٹلائٹ تصاویر سے تصدیق ہوئی ہے کہ پاکستانی فوج نے افغانستان کے بگرام ائیر بیس کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق، بیس کے شمالی حصے میں کم از کم ایک ایئر کرافٹ ہینگر اور دو بڑے گودام تباہ ہوئے ہیں۔ مقامی رہائشیوں نے اتوار کی صبح 6 بجے کے بعد کم از کم دو دھماکے سنے، جبکہ تین افراد نے جیٹ طیارے کی آواز بھی سنی۔
ترکی کے صدر کا اعلان: پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کے لیے کوششیں
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا ہے کہ ترکی پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ترکی پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کھڑا رہے گا۔
تھل سیکٹر میں دراندازی ناکام، پاکٹیکا میں افغان چوکی پر قبضہ
پاکستان آرمی نے تھل سیکٹر میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے جنگجوؤں کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔ کارروائی کے دوران پاکستانی افواج نے افغانستان کے پاکتیکا صوبے میں طالبان کی ایک چوکی پر قبضہ کر کے وہاں قومی پرچم لہرا دیا۔ ذرائع کے مطابق، متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے اور تین اضافی چوکیاں تباہ کی گئیں۔
سرحدی حملوں میں 67 طالبان ہلاک، ایک ایف سی جوان شہید
اطلاعات کے وزیر عطاء اللہ تارڑ کے مطابق، بلوچستان اور کے پی میں سرحد پر ہم آہنگ حملوں کے بعد 67 افغان طالبان ہلاک ہوئے جبکہ ایف سی بلوچستان نارتھ کا ایک جوان شہید ہو گیا۔ بلوچستان میں 16 مقامات پر جسمانی حملے اور 25 مقامات پر فائر ریڈز کیے گئے، جو سب ناکام بنا دیے گئے۔ کے پی میں 40 طالبان ہلاک ہوئے۔
جلال آباد میں ہوائی حملے، ہتھیاروں کے ڈپو تباہ
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، آپریشن غضب للہ کے تحت جلال آباد میں ہوائی حملے کیے گئے، جس میں ہتھیاروں کا ڈپو اور ڈرون اسٹوریج کی سہولت تباہ ہوئی۔ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز افغان طالبان ریجم کی جارحیت کے جواب میں مضبوط ردعمل دینے پر عزم ہیں۔
سیکیورٹی اہلکار: آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک طالبان دہشت گردوں کی حمایت بند نہیں کرتے
ایک سینئر سیکیورٹی اہلکار نے کہا ہے کہ پاکستان کے جاری آپریشن کا دورانیہ افغان طالبان ریجم کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا دہشت گرد گروہوں کے ساتھ۔ پاکستان کا تنازعہ افغان عوام کے ساتھ نہیں ہے۔ اب تک 180 سے زیادہ چوکیاں تباہ ہو چکی ہیں اور 30 سے زیادہ اہم مقامات پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔
ٹالل چوہدری: افغان طالبان ریجم نے جنگ شروع کی، پاکستان اس کا خاتمہ کرے گا
ریاستی وزیر برائے اندرونی امور ٹالل چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہئیں، لیکن پاکستان افغان طالبان ریجم کی شروع کردہ جنگ کا فیصلہ کن اختتام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ کارروائیاں صرف افغانستان کے اندر دہشت گردوں اور ان کے اڈوں کو نشانہ بنائی گئی ہیں۔ افغان طالبان نے دہشت گرد گروہوں سے ہمدردی میں پاکستان پر حملہ کیا۔
