اسلام آباد: وزارت اطلاعات و نشریات نے پاک افغان سرحد پر فائرنگ کے واقعے سے متعلق افغان طالبان کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹا، من گھڑت اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
وزارت کی فیکٹ چیک رپورٹ میں حقائق کی وضاحت
وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کردہ فیکٹ چیک کے مطابق افغان طالبان کی حکومت نے انگور اڈہ بارڈر واقعے کے حوالے سے ایک جھوٹی اور گمراہ کن روایت قائم کرنے کی کوشش کی ہے، جو اس حکومت کے دھوکہ دہی پر مبنی طرز عمل کی عکاسی کرتی ہے۔
وزارت نے واضح کیا کہ افغان طالبان کی افواج نے بغیر کسی اشتعال کے پاکستانی حدود میں موجود غیر مسلح شہریوں پر فائرنگ شروع کی اور مارٹر گولے داغے۔ وزارت کے مطابق یہ واقعہ بھارت اور اس کے پراکسی عناصر سے منسلک ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے۔
پاکستانی سیکیورٹی فورسز کا بھرپور جواب
وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی سات چوکیوں کو تباہ کر دیا۔ اس جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی افواج کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا۔
- افغان طالبان کی افواج نے پاکستانی حدود میں غیر مسلح شہریوں پر اشتعال انگیز فائرنگ کی
- پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے سات طالبان چوکیاں تباہ کیں
- جوابی کارروائی میں طالبان افواج کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا
- وزارت نے طالبان ترجمانوں کے بیانات کو حقائق کے منافی قرار دیا
طالبان ترجمانوں کے بیانات مسترد
وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت کے ترجمانوں کے بیانات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔ وزارت کے مطابق طالبان حکام گمراہ کن دعووں کے ذریعے اپنی ہی عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزارت نے ایک بار پھر افغان طالبان کے واقعے کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف اپنی سرکاری فیکٹ چیک رپورٹ میں پیش کردہ حقائق پر مبنی ہے۔
