اسلام آباد: پاکستان اور روس نے انسداد دہشت گردی کے لیے مشترکہ مکالمے کو فعال کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس کا مقصد عالمی دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ معاہدہ اسلام آباد میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اور پاکستان میں روسی سفیر البرٹ پی خورے کے درمیان ملاقات کے دوران طے پایا۔ ملاقات میں دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خطرے کا سامنا کرنے کے لیے بڑھتی ہوئی شراکت داری کے عزم کو اجاگر کیا۔
پاکستان کی وزارت داخلہ نے بات چیت کے بعد کہا کہ “دونوں ممالک کے درمیان انسداد دہشت گردی مکالمے کو فعال کرنے پر اتفاق ہوا۔” وزارت نے مزید زور دیا کہ عالمی دہشت گردی کے خطرے پر قابو پانے کے لیے مشترکہ کثیرالجہتی اقدامات کی ضرورت ہے۔
دہشت گردی پر توجہ مرکوز کرنے کے علاوہ، دونوں رہنماؤں نے منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے تعاون کو بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ روسی سفیر نے پاکستانی افسران کو ماسکو اور سائبیریا میں انسداد منشیات تربیتی سیشنز میں شرکت کی دعوت دی، جو بین الاقوامی جرائم کے خاتمے میں باہمی مدد کی توسیع کی نشاندہی کرتی ہے۔
دونوں ممالک نے وفود کے تبادلے کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے پر بھی اتفاق کیا، جس سے مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعلقات مضبوط ہونے کی توقع ہے۔ یہ بات چیت حالیہ ملاقاتوں کے سلسلے کا حصہ ہیں، جن میں طلبہ کے تبادلہ پروگراموں اور سیاحت پر بھی غور کیا گیا۔
ان مذاکرات کے پس منظر میں روس کے وزیر اعظم میخائل میشوستن کا دورہ اسلام آباد بھی شامل ہے، جو گزشتہ اکتوبر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے لیے ہوا تھا، جہاں تجارت، صنعت، سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون کے مزید راستوں کی تلاش کی گئی۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان زرعی اجناس کے تبادلے کے لیے بارٹر معاہدے بھی طے پائے، جس کا مقصد تجارت کو فروغ دینا تھا۔
مزید برآں، پاکستان اور روس نے گزشتہ اکتوبر میں مشترکہ فوجی مشق ‘دوست VII’ بھی کی، جو دفاعی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کی علامت ہے۔ یہ ترقیات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نمایاں طور پر مضبوط کرتی ہیں، کیونکہ وہ عالمی سطح پر مشترکہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے باہمی مفادات کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
