پاکستان کے وزیرِ خزانہ اور نائب وزیرِ اعظم، اسحاق ڈار نے 11 فروری 2025 کو دبئی میں متحدہ عرب امارات کی ای& گروپ کے چیف ایگزیکٹو، خلیفہ الشامسی سے ملاقات کی اور کمپنی کو پاکستان کے ٹیلی کام کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری کے لیے مدعو کیا۔
اس ملاقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ پی ٹی سی ایل کی انتظامیہ ای& کے ساتھ ہے، جس کے پاس 26 فیصد حصص ہیں۔ جبکہ پاکستان حکومت کے پاس 62 فیصد اور باقی 12 فیصد حصص پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے جاری کیے گئے ہیں۔ وزیرِ خزانہ کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے خلیفہ الشامسی اور چیف آپریشنز آفیسر خالد ہیگازی کے ساتھ دیگر پاکستانی اہلکاروں کے ساتھ ملاقات کی۔
اسحاق ڈار نے پاکستان کی سرمایہ کاری کے سازگار ماحول کو اجاگر کرتے ہوئے ای& کو دعوت دی کہ وہ ملک کے ٹیلی کام کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری کریں۔ خلیفہ الشامسی نے اس بات کو تسلیم کیا کہ پاکستان خطے میں ایک بڑھتے ہوئے مارکیٹ کی اہمیت رکھتا ہے اور انہوں نے کاروبار دوست ماحول کی تشکیل کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔
اسحاق ڈار اس وقت وزیرِ اعظم شہباز شریف کے وفد کا حصہ ہیں، جو ان کے دعوت پر دو روزہ دورے پر متحدہ عرب امارات میں موجود ہے، جہاں وہ دبئی میں ورلڈ گورنمنٹ سمٹ میں شرکت کر رہے ہیں۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق یہ وزیرِ اعظم کا مارچ 2024 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد متحدہ عرب امارات کا دوسرا دورہ ہے۔
گزشتہ ماہ، متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے ساتھ معدنیات اور زراعت کے شعبوں میں تعاون میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔ یہ بات وزیرِ اعظم شہباز شریف اور امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے درمیان 5 جنوری کو رحیم یار خان میں ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تاریخی تعلقات کی بنا پر قریبی سفارتی، اقتصادی اور ثقافتی روابط قائم ہیں، جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی تارکین وطن بھی موجود ہیں۔ متحدہ عرب امارات پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے اور رقوم کی ترسیل کا ایک اہم ذریعہ ہے، جہاں ہزاروں پاکستانی مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک دفاع، توانائی، اور سرمایہ کاری کے منصوبوں میں بھی تعاون کر رہے ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات اکثر پاکستان کو مالی مدد اور انسانی ہمدردی کی امداد فراہم کرتا ہے۔
