اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے یوم استحصال کشمیر کے موقع پر بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کی ہمت، استقامت اور حق خودارادیت کے لیے جاری جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بند کرے۔
صدر مملکت کا پیغام: کشمیری عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی
صدر آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ لاکھوں کشمیری بدستور شدید پابندیوں کے تحت زندگی بسر کر رہے ہیں جس نے روزمرہ زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا، “خاندانوں نے غیر یقینی کی صورتحال برداشت کی، نوجوانوں نے اپنے مواقع سکڑتے دیکھے پوری برادریوں نے طویل تنازعے اور عدم استحکام کا بوجھ اٹھایا۔”
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان تمام تر مشکلات کے باوجود جموں و کشمیر کے عوام انصاف کے حصول اور اپنے جائز حق کے لیے ثابت قدم ہیں۔ صدر نے واضح کیا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا، “ہم ہر بین الاقوامی فورم پر اس وقت تک آواز اٹھاتے رہیں گے جب تک کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل نہیں ہو جاتا۔”
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں اس بات کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کے تنازعے کا پرامن اور منصفانہ حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سنگ بنیاد ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی آواز کو ہر علاقائی اور بین الاقوامی فورم پر بلند کرتا رہے گا۔
وزیراعظم نے عالمی برادری سے پرزور اپیل کی کہ وہ بھارت پر زور دے کہ وہ:
- غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے۔
- اگست 2019 سے نافذ غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو واپس لے۔
- کشمیری عوام پر مسلط کردہ ظالمانہ قوانین کو منسوخ کرے۔
- کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے استعمال کے ذریعے تنازعے کے پرامن حل کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے۔
انہوں نے 5 اگست 2019 کے بھارت کے غیر قانونی اقدامات کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دن کا مقصد دنیا کو ان سنگین نتائج کی یاد دلانا ہے۔ وزیراعظم نے کہا، “ہم اس دن کو منا کر دنیا کو یاد دلاتے ہیں کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔”
یوم استحصال کے موقع پر پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے ان بیانات نے نہ صرف کشمیریوں کے ساتھ اپنی اٹل وابستگی کا اعادہ کیا بلکہ عالمی برادری کو بھی اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی یاد دہانی کرائی۔
