اسلام آباد میں امریکی سفیر کے ساتھ ملاقات میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے امریکا اور ایران کے درمیان دوسرے کی مذاکراتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق اس ملاقات میں علاقائی صورتحال اور سفارتی مصروفیات کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
امریکی صدر کی پہل پر پاکستان کا خیرمقدم
وزیر داخلہ محسن نقوی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے اقدام کو سراہتے ہوئے اسے “خوش آئند پیش رفت” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے کشیدگی میں کمی کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ نقوی نے امید ظاہر کی کہ ایران کی جانب سے بھی مثبت پیش رفت ہوگی۔
اعلیٰ سطح پر کوششیں جاری
وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر ہر سطح پر اس مسئلے کے حل کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ “امید ہے کہ دونوں فریق سفارتی اور پرامن حل کو موقع دیں گے۔”
امریکی سفیر کا اعتراف
امریکی چارج ڈی افیئرز نٹالی بیکر نے خطے میں امن کے فروغ اور تنازعات کے حل میں پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو سراہا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان واحد ثالث کے طور پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔
دوسرے دور کی مذاکرات کا امکان
ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان دوسرے دور کی بات چیت جمعہ تک ہو سکتی ہے۔ نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس امکان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اگلے 36 سے 72 گھنٹوں میں اسلام آباد میں مذاکرات متوقع ہیں۔
جنگ بندی اور بحری ناکہ بندی پر تنازع
صدر ٹرمپ نے منگل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا، لیکن امریکی بحریہ کی جانب سے ایران کی تجارت پر ناکہ بندی جاری رکھنے کا بھی کہا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ “بحری ناکہ بندی کی موجودگی میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ممکن نہیں۔”
پہلے دور کی تاریخی ملاقات
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پہلے دور کی براہ راست مذاکرات اسلام آباد میں 21 گھنٹے جاری رہے تھے۔ یہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سب سے اعلیٰ سطحی ملاقات تھی جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی اسپیکر قالیباف نے شرکت کی تھی۔
