geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
August 11, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • to Find the Perfect Spot to Watch the August 12 Solar Eclipseصاف افق، بہترین موسم… 12 اگست کے سورج گرہن کو دیکھنے کے لیے بہترین جگہ کیسے تلاش کریں
    • How to Turn Kids' Hikes Into Joyful Adventuresبچوں کے ساتھ ہائیکنگ کو مہم جوئی میں کیسے بدلیں؟ ماہرین کے آسان اور کارآمد مشورے
    • Why You Must Shower After Swimming, Per Dermatologistsسمندر یا پول میں تیراکی کے بعد نہانا محض صفائی نہیں، طبی ماہرین نے لازمی قرار دے دیا
    صحت و تندرستی
    • France Flips the Script on Telemarketing: Strict New Rules from August 11فرانس میں ٹیلی مارکیٹنگ کا انقلاب: 11 اگست سے بغیر اجازت فون کالز پر پابندی
    • Tiger Mosquito to Invade Over 70% of France by 2085خطرے کی گھنٹی: 2085 تک فرانس ک 70 فیصد حصہ ٹائیگر مچھر کی لپیٹ میں آ سکتا ہے
    • French Authorities Issue Urgent Squishy Toy Safety Warningاسکویشی کھلونے: ’احتیاط برتیں‘، فرانسیسی حکام نے والدین کو خبردار کر دیا
    دلچسپ اور عجیب
    • France Flips the Script on Telemarketing: Strict New Rules from August 11فرانس میں ٹیلی مارکیٹنگ کا انقلاب: 11 اگست سے بغیر اجازت فون کالز پر پابندی
    • Tiger Mosquito to Invade Over 70% of France by 2085خطرے کی گھنٹی: 2085 تک فرانس ک 70 فیصد حصہ ٹائیگر مچھر کی لپیٹ میں آ سکتا ہے
    • French Authorities Issue Urgent Squishy Toy Safety Warningاسکویشی کھلونے: ’احتیاط برتیں‘، فرانسیسی حکام نے والدین کو خبردار کر دیا
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Nvidia Partners with Six Financial Giants on $500B AI Fundنوڈیا نے مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کے لیے 500 ارب ڈالر سے زائد کے فنڈ کا اعلان کر دیا
    • Rare Total Solar Eclipse to Darken Europe on August 12یورپ میں 12 اگست کو نایاب سورج گرہن، اسپین میں پورا سورج چھپ جائے گا
    • SpaceX Rocket Stage Crashes on Moon, Telescopes Confirmسپیس ایکس راکٹ کا ملبہ چاند سے ٹکرا گیا، سائنسدانوں نے تصدیق کر دی
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

سیاست میں عدم برداشت کا کلچر

March 17, 2022 0 1 min read
Opposition
Share this:

Opposition

تحریر: فیصل اظفر علوی
اس وقت پاکستانی سیاست میں جو ”دھماچوکڑی” مچی ہوئی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ سیاست میں عدم برداشت کا کلچر انتہائی سطح کو چھو رہا ہے ۔ سیاسی عدم برداشت کا بڑھتا ہوا یہ رجحان انتہائی افسوس ناک ہے۔ سیاست میں اچھے ہتھکنڈوں کے استعمال کی تاریخ اگرچہ بہت پرانی ہے لیکن پھر بھی اس میں چند اخلاقی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا تھا۔ آج کل سیاسی اختلافات اب ذاتی اختلافات میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ، گالم گلوچ اور ہاتھا پائی تک چلے جانے کی سیاست پہلے کبھی نہ تھی مگر اب آئے روز اس طرح کے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔سیاسی عدم برداشت کو یہاں تک پہنچانے میں پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

گزشتہ روز اپنے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس حوالے سے ذکر کیا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو ”ڈیزل ” کا خطاب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے دیا تھا۔ ماضی میں بھی اس طرح کی کئی مثالیں موجود رہی ہیں۔ سابق صدر رفیق تارڑ (مرحوم) کو آصف علی زرداری نے ”بریف کیس مولوی” کا خطاب دیا۔ (ن) لیگ نے سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو ”پیلی ٹیکسی” اور سابق خاتون اول نصرت بھٹو کو ایک ناقابل تحریر ”گالی” سے مخاطب کیا۔(ن) لیگ کے رہنما خواجہ آصف کو یہ ”اعزاز” دوسری مرتبہ پھر حاصل ہوا جب انہوں نے قومی اسمبلی اجلاس میں تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی شیریں مزاری کو ”ٹریکٹر ٹرالی” کے خطاب سے ”نوازا” ۔ (ن) لیگ کے ہی مرکزی رہنما رانا ثنا اللہ جب پاکستان پیپلز پارٹی میں تھے تو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو ”ٹیکسی” کہا کرتے تھے اور انہوں نے ہی مریم نواز کے ”مجازی خدا” کیپٹن(ر) صفدر اعوان کے بارے میں انتہائی غلیظ زبان استعمال کی تھی۔ریکارڈ پر ہے کہ (ن) لیگ کے رہنمائوں نے ہی سابق صدر آصف علی زرداری کو ”مسٹر ٹین پرسنٹ” کہا۔مولانا فضل الرحمن جب سے عمران خان کے سیاسی حریف ہوئے اس وقت سے ان پر بنا کسی ثبوت کے ”یہودی ایجنٹ” جیسا سنگین الزام عائد کرتے آ رہے ہیں۔

اس سے بڑھ کریہ ستم ظریفی دیکھیے کہ ماضی میں ایک وزیر اعظم کی جانب سے دوسری سابق وزیر اعظم کی تصاویر پرنٹ کرواکر ہیلی کاپٹر کے ذریعے مختلف شہروں میں گرائی گئیں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں عدم برداشت اور ایک دوسرے کو برے القابات سے پکارنے کا سلسلہ مزید تیز ہو گیا اور اس ”بہتی گنگا” میں تحریک انصاف کے ”پڑھے لکھے” کارکنان نے بھی خوب ہاتھ دھوئے۔

سیاسی رہنما عوام کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ عام آدمی اپنے انہی رہنمائوں کی پیروی کرتا ہے اور یہی رہنما اپنے ووٹرز اور سیاسی کارکنان کی تربیت کیلئے ”درسگاہ” کا کردار ادا کرتے ہیں۔ایسے حالات میں جب ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین ہی ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوتے ہوئے مغلظات سے نوازیں گے تو ان کی پیروی کرنے والے کیونکر ان سے پیچھے رہیں؟سیاسی عدم برداشت کا ایک عملی نمونہ دو تین روز قبل دیکھنے میں آیاجس میں جے یوآئی (ف) کا ایک کارکن وزیر اعظم عمران خان کو قتل کرنے کی دھمکی دے رہا تھا ۔ ایک سیاسی کارکن اس حد تک اُس وقت پہنچتا ہے جب اسے بار بار یہ باور کروایا جاتا ہو کہ ملک کامنتخب وزیر اعظم ”سلیکٹڈ” اور ”یہودی ایجنٹ” ہے۔ سیاسی کارکنوں کا عدم برداشت پر مبنی یہ رویہ انتہائی افسوس ناک اور خطرناک ہے۔ عدم برداشت کے اس رویے کی نمو کے پس منظر میں سیاستدانوں کا وہ رویہ ہے جو وہ سیاسی جلسوں میں اپنے مخالفین کے خلاف تقریر کرتے ہوئے اختیار کرتے ہیں۔

سیاسی مخالفت میں نفرت اور رویے میں شدت پسندی نے سیاست میں عدم برداشت کے کلچر کو فروغ دیا ہے۔ اس منفی رجحان کے خاتمے کے لئے سیاسی رہنماؤں کو کردار ادا کرنا ہوگا۔قوم کے رہنما ہونے کے ناتے سیاستدانوں پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کی سیاسی تربیت کریں اور انھیں اس امر کا شعور دیں کہ جمہوریت میں اختلاف ہر جماعت کا بنیادی حق ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اختلافات کی آڑ میں شائستگی کی حد سے نکل کر غیراخلاقی رویہ اختیار کیا جائے۔ سیاسی رہنماؤں سے انکے کارکنان اور عوام بہت کچھ سیکھتے ہیں اس لئے سیاسی رہنماؤں کو جلسے جلوسوں کے دوران تقریر کرتے ہوئے یا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیاسی مخالفت میں منفی رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے جس سے عوام میں اشتعال اور عدم برداشت کی سوچ جنم لے۔ اپنی گفتگو میں گالی اور غیر اخلاقی زبان استعمال کرنے کے بجائے بہتر الفاظ کا چناؤ کر کے بھی سیاسی مخالفت کی جا سکتی ہے۔

کسی بھی فرد سے سیاسی اختلافات یا کسی بھی جماعت کی پالیسی کے خلاف اپنے جذبات کے اظہار کے لئے بہت سارے مہذب طریقے ہیں۔ کسی بھی جماعت کی جانب سے اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کو سیاسی مخالفین کے خلاف غیر اخلاقی گفتگو اور غیرشائستہ عمل کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔اچھے جمہوری معاشروں میں سیاسی رہنمائوں کی جانب سے اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ وہ کوئی ایسی بات اپنی زبان سے نہ نکالیں جس سے ان کی پیروی کرنے والے سیاسی کارکنوں کی تربیت پر کوئی منفی اثرات مرتب ہوں۔ اگر اس منفی روئیے کا فوری سدباب نہ کیا گیا اور سیاسی مخالفت میں اس کی حوصلہ افزائی کی گئی تو معاملہ بڑھتے بڑھتے اس نہج پر پہنچ جائے گا جہاں اس پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔ایسی صورت میں معاملات وہ ہئیت اختیار کر جائیں گے جیسے ان دنوں دکھائی دے رہے ہیں۔بقول بشیر بدر
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
Faisal Azfar Alvi

تحریر: فیصل اظفر علوی
faalvi@live.com

Share this:
Shaukat Tareen
Previous Post حکومت نے مؤثر حکمت عملی سے معیشت بہتر بنائی: وزیر خزانہ
Next Post شب برات
Shab e Barat

Related Posts

The Iberian Trilogy: Europe’s Rare Trio of Solar Eclipses Begins

یورپ میں سورج گرہن کی نایاب سہ گانہ: 2026 سے 2028 تک تین فلکیاتی مہمات

August 11, 2026
France Flips the Script on Telemarketing: Strict New Rules from August 11

فرانس میں ٹیلی مارکیٹنگ کا انقلاب: 11 اگست سے بغیر اجازت فون کالز پر پابندی

August 11, 2026
AR Rahman's Son Ameen Injured in Chennai Car Crash

چنئی میں اے آر رحمان کے صاحبزادے اے آر امین کار حادثے میں بال بال بچ گئے

August 11, 2026
Atif Aslam on Creative Struggles and Returning to Roots

عاطف اسلم کا 18 سال بعد موسیقی کی جڑوں کی طرف واپسی کا فیصلہ

August 11, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.