لندن: پاکستانی طلبا کی بھارچی ہم منصبوں پر واضح فتح
آکسفورڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تین پاکستانی طلبا نے بھارت کی پاپولسٹ قومی سلامتی کی پالیسی کے موضوع پر ہونے والے مباحثے میں اپنے بھارتی ہم منصبوں کو شکست دی۔ مباحثے کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ بھارت کی پاکستان کے خلاف پالیسی درحقیقت سلامتی کے بجائے مقبولیت حاصل کرنے کی حکمت عملی ہے۔
مباحثے کے اہم پہلو
- آکسفورڈ یونین میں ہونے والے مباحثے میں پاکستانی ٹیم نے 160 ووٹ حاصل کیے جبکہ بھارتی ٹیم کو صرف 51 ووٹ ملے
- بھارت نے اصل میں نامزد اعلیٰ پروفائل اسپیکرز کی جگہ نئے اسپیکرز کو میدان میں اتارا
- پاکستانی طلبا موسیٰ ہراج، اسرار خان کاکڑ اور احمد نواز خان نے منطق اور دلائل سے کامیابی حاصل کی
پاکستانی طلبا کے دلائل
موسیٰ ہراج نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ بھارت کی پاکستان کے خلاف پالیسی قومی سلامتی کے بجائے الیکشن میں مقبولیت حاصل کرنے کا ذریعہ بن چکی ہے۔ انہوں نے پانی کے انتظام اور ہائیڈرو پولیٹکس کے معاملے پر بھارت کے یکطرفہ رویے کی نشاندہی کی۔
اسرار خان کاکڑ نے بھارت کے اندر اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف امتیازی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ بھارت کی خارجہ پالیسی پر بھی اثرانداز ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ذمہ دار نیوکلیئر ریاست کا کردار ادا کیا ہے۔
مباحثے کی اہمیت
یہ مباحثہ جنوبی ایشیائی سیاست میں دلچسپی رکھنے والے طلبا، سفارت کاروں اور مبصرین کے لیے خاص اہمیت کا حامل تھا۔ بھارتی اسپیکرز کی واپسی کے بعد مباحثے کے منسوخ ہونے کے خدشات تھے، لیکن آکسفورڈ یونین نے اسے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
احمد نواز خان نے اپنے اختتامی کلمات میں پاکستان کی لچک اور ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے سلامتی اور ڈپلومیسی کے میدان میں نمایاں پیشرفت کی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کو غیر مستحکم قرار دینے والی روایتی narrative اب پرانی ہو چکی ہے۔
نتیجہ
مباحثے کے اختتام پر ہونے والی ووٹنگ نے ثابت کیا کہ شرکا کی اکثریت اس بات سے متفق ہے کہ بھارت کی پاکستان کے خلاف پالیسی درحقیقت مقامی سطح پر مقبولیت حاصل کرنے کی حکمت عملی ہے۔ پاکستانی طلبا کی یہ کامیابی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی مثبت تصویر پیش کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔




