متحدہ عرب امارات کی فضائی دفاعی نظام نے پراجیکٹائل کو تباہ کیا، گرنے والے ملبے سے آگ بھڑک اٹھی
شارجہ: متحدہ عرب امارات کی خورفکان بندرگاہ پر اتوار کے روز فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ایک پراجیکٹائل کو کامیابی سے تباہ کرنے کے بعد گرنے والے ملبے سے آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں تین پاکستانی شہری زخمی ہو گئے ہیں۔
شارجہ گورنمنٹ میڈیا بیورو کے مطابق ہنگامی دستوں نے آگ پر قابو پا لیا ہے اور ٹھنڈا کرنے کے عمل کا سلسلہ جاری ہے۔ واقعے میں ایک نیپالی شہری بھی شدید زخمی ہوا جسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا اظہار تشویش اور احتیاط کی اپیل
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سماجی میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
انہوں نے کہا کہ “ہم اپنے شہریوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ پاکستان متحدہ عرب امارات کے بھائی چارے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور خطے میں احتیاط اور تناؤ میں کمی کی فوری ضرورت پر زور دیتا ہے۔”
خورفکان بندرگاہ کی اہمیت اور حکام کی ہدایت
خورفکان بندرگاہ خلیج عمان پر واقع ہے جو روزانہ 10 سے 30 بحری جہازوں کی آمدورفت کا مرکز ہے۔ یہ بندرگاہ ہرمز کے آبنائے سے گزرے بغیر بحری جہاز رانی کی سہولت فراہم کرتی ہے، جس کی وجہ سے یہ خطے میں ایک اہم لاجسٹکس ہب کی حیثیت رکھتی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور افواہوں کے پھیلاؤ سے گریز کریں۔ پاکستان کے سفارت خانہ ابوظہی نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی بروقت صحت یابی کی خواہش کی ہے۔
