پیرس کے تیرہویں آرونڈسمینٹ میں واقع ایک فلاحی مرکز میں گذشتہ فروری میں 8 سالہ بچے کے سر منڈوانے کے واقعے کے تقریباً دس ماہ بعد، اتوار کو اس مرکز میں سرکاری معائنہ شروع کر دیا گیا ہے۔
عدالتی کارروائی اور انتظامی تحقیقات
شہری حکام کے مطابق، پیرس میونسپلٹی نے اس معاملے میں فوری طور پر عدالت سے رجوع کیا ہے۔ پیرس کے پراسیکیوٹر نے “15 سال سے کم عمر بچے پر اختیار رکھنے والے شخص کے ہاتھوں جان بوجھ کر تشدد” کے الزام میں ابتدائی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے، جس کی ذمہ داری تیرہویں آرونڈسمینٹ کے پولیس اسٹیشن کو سونپی گئی ہے۔ میونسپلٹی نے انتظامی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔
اعلیٰ سطحی ردعمل اور خود کار گرفتاری
حقوق کی ڈیفنڈر کلائر ہیڈن نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ادارہ اس معاملے کو از خود اپنے پاس لے گا، جو پیرس میں بچوں کے تحفظ کے نظام میں متعدد خامیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی دوران، وزیر صحت سٹیفنی رسٹ نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر اعلان کیا کہ انہوں نے پیرس کے پراسیکیوٹر سے رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا، “میں ان ناقابل قبول حقائق کی سختی سے مذمت کرتی ہوں۔ سزا کے طور پر کسی بچے کے بال منڈوانا اس کی عزت نفس پر سنگین حملہ ہے۔”
واقعے کی تفصیلات
یہ واقعہ گذشتہ فروری میں پیش آیا، جب ایلیٹ (فرضی نام) نامی 8 سالہ بچے کو پیرس کی ایڈ سوشل à لینفینس (ASE) کے زیر انتظام ایک فلاحی مرکز میں اس کے سر منڈوانے پر مجبور کیا گیا۔ زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ اس منظر کو ویڈیو میں ریکارڈ کر کے واٹس ایپ کے ایک گروپ میں شیئر کیا گیا، جہاں بچے کا مذاق اڑایا گیا، لیکن کسی نے بھی اپنے سپروائزرز کو خبردار نہیں کیا۔ بچے کی ماں کے وکیل نے ستمبر میں متعلقہ حکام کو اس واقعے کی اطلاع دی۔
مرکز کی صورتحال
شہری حکام کے مطابق، ایسوسی ایشن ژاں-کوکسٹےٹ کے زیر انتظام جنر ایجوکیٹو ہوم میں یہ “انتہائی سنگین” واقعہ پیش آیا۔ میونسپلٹی کے مطابق، “ایسوسی ایشن نے ابتدائی جوابات فراہم کیے ہیں، خاص طور پر ٹیم اور ٹیم لیڈر کی تبدیلی کے حوالے سے۔”
