پیرس: **سینٹ ڈومینک انسٹی ٹیوٹ** (یسوعیوں کے زیر انتظام ایک تاریخی نجی تعلیمی ادارہ) میں زیر تعلیم ایک بچے کے خاندان نے گذشتہ ہفتوں میں ایک المناک واردات کا سامنا کیا ہے، جس نے فرانس میں بچوں کے تحفظ اور اسکولوں میں جنسی زیادتی کے انتظامات پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
واقعے کی تفصیلات کے مطابق، **پانچ سالہ** ایک بچے نے اپنی ماں سے یہ خوفناک جملہ کہا: **”مان، انہوں نے میرے اندر کھلونے ڈال دیے”**۔ یہ دعویٰ اسکول کی چھٹیوں کے بعد سامنے آیا جب بچے کے رویّے میں نمایاں تبدیلیاں نظر آئیں، جس میں بے چینی اور رات کے وقت پریشان کن خواب شامل تھے۔
والدین نے دھاوا بولتے ہوئے بچے کے زیر جامہ کی فوری جانچ کی اور خود ساختہ طبی معائنہ کروایا، جس نے کافی شکوک و شبہات کو جنم دیا۔ انہوں نے سینٹ ڈومینک کی انتظامیہ سے رابطہ کیا اور ایک اخباری ہدایت (پریس ریلیز) جاری کی، مطالبہ کیا کہ **”یونیورسٹی کی انتظامیہ فوری طور پر متاثرہ بچوں کی شناخت کرے اور انہیں قابِل اعتماد ماہرین نفسیات کے حوالے کرے”**۔
ادارے نے پیرس کے پبلک پراسیکیوشن آفس کو اس واقعے کی شکایت درج کرائی ہے اور ایک داخلی تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ اسکول کے ڈائریکٹر نے والدین کی فکر مندی کا اعتراف کرتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سینٹ ڈومینک میں بچوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
تاہم، خاندان کے وکیل نے ادارے کے جواب پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق ادارے نے **”بلڈوزر حکمت عملی”** اختیار کرتے ہوئے واقعے کو کم تر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس دوران فرانسیسی قومی پولیس کے شعبۂ انسانی حقوق کے ماہرین اور نابالغوں کے تحفظ کے لیے وقوف حکام اس معاملے کی چھان بین کر رہے ہیں۔ بچے کا طبی اور نفسیاتی معائنہ بھی کرایا جا رہا ہے۔ یہ معاملہ فرانس میں تعلیمی اداروں میں بچوں کی حفاظتی انتظامات کی کمزوریوں کو شدت سے اجاگر کرتا ہے۔
