فرانسیسی گلوکار پر دہائیوں پرانے واقعات کے بعد مقدمہ درج
فرانس کے مشہور گلوکار اور اداکار پاٹرک بروئل پر پیرس میں ایک ابتدائی تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی مارچ میں درج کی گئی ایک شکایت کے بعد عمل میں آئی ہے جس میں گلوکار پر کئی دہائیوں قبل جنسی حملے اور ریپ کی کوشش کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پیرس کے پراسیکیوشن آفس نے منگل کو اس بات کی تصدیق کی۔
شکایت کنندہ کون ہے؟
اگرچہ پراسیکیوشن آفس نے شکایت کنندہ کا نام ظاہر نہیں کیا، لیکن ذرائع کے مطابق یہ شکایت یونی فرانس کی موجودہ ڈائریکٹر جنرل ڈینیلا ایلسٹنر نے درج کرائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نومبر 1997 میں میکسیکو کے ایک فلم فیسٹیول کے دوران پیش آیا تھا، جب وہ یونی فرانس کی اسسٹنٹ تھیں۔
وکیل کا ردعمل
ڈینیلا ایلسٹنر کی وکیل جیڈ ڈوسلن نے کہا ہے کہ وہ اس ابتدائی تفتیش کے آغاز پر خوش ہیں اور وہ سچائی سامنے لانے کے لیے پراسیکیوشن آفس کے ساتھ مکمل تعاون کریں گی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کی موکلہ کی یہ کوشش زیادہ تر ایک ذاتی آزادی اور دوسری خواتین کے لیے آواز اٹھانے کے جذبے سے متاثر ہے۔
سینٹ مالو میں بھی تحقیقات جاری
پیرس کے علاوہ، پاٹرک بروئل پر سینٹ مالو میں بھی ریپ کے ایک الگ واقعے کے حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ یہ مقدمہ ستمبر 2024 میں درج کیا گیا تھا، جس میں ایک خاتون نے گلوکار پر اکتوبر 2012 میں ڈینارڈ فلم فیسٹیول کے دوران ریپ کا الزام لگایا تھا۔
بین الاقوامی ردعمل
یہ واقعات فرانس میں #MeToo مہم کے تناظر میں سامنے آئے ہیں، جہاں متعدد مشہور شخصیات پر جنسی زیادتی کے الزامات لگ چکے ہیں۔ میڈیا پارٹ نامی ویب سائٹ کی ایک رپورٹ کے بعد سوشل میڈیا پر بھی پاٹرک بروئل کے خلاف مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔
اب تک پاٹرک بروئل کی طرف سے ان نئے الزامات پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم، یہ مقدمات فرانسیسی تفریحی صنعت میں طویل عرصے سے چلے آ رہے جنسی ہراسانی کے خلاف جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔
