پیرس سے تقریباً ایک سو کلومیٹر شمال میں واقع ایک چھوٹے سے فرانسیسی گاؤں میں ایک ایسی روایت زندہ ہے جو دنیا بھر میں مشہور “پٹی سوئس” پنیر کی اصل کہانی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پنیر سوئٹزرلینڈ کا نہیں بلکہ فرانس کے علاقے اواز کے گاؤں ویلیئر سور اوشی کی دین ہے۔
پنیر بنانے کا روایتی طریقہ
گاؤں کے پنیر ساز ژاں ماری بودوئن آج بھی روایتی انداز میں پٹی سوئس تیار کرتے ہیں۔ وہ دودھ کو پہلے چوبیس گھنٹے کے لیے جمتے رہنے دیتے ہیں اور پھر چھتیس گھنٹے تک اسے چھاننے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ پیسٹری کے تھیلے کی مدد سے تازہ پنیر کو ایک سانچے میں بھرتے ہیں، جس سے ایک ساتھ بارہ پٹی سوئس تیار ہوتے ہیں۔
یہ وہی طریقہ ہے جو انیسویں صدی کے اواخر میں پے دے برے کے کسانوں کی بڑی تعداد استعمال کرتی تھی۔
سوئٹزرلینڈ سے دور، فرانس میں جنم
سوئس الپس کے پہاڑوں سے بہت دور، اسی بیوویزے کے علاقے کے گاؤں میں پٹی سوئس نے جنم لیا۔ سن 1851 میں لوئی شارل جروا، جو چارلز جروا کے نام سے مشہور ہوئے، نے گاؤں کی رو باراٹ سٹریٹ پر واقع صوفی جولی بورڈے کے فارم سے اس کی ترکیب حاصل کی۔
یوں ایک سادہ دیہی فارم کی ترکیب آگے چل کر فرانس اور دنیا بھر میں مقبول ہو گئی، جبکہ اس کا نام آج بھی سوئٹزرلینڈ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
کیوں اہم ہے یہ روایت؟
- یہ پنیر فرانس کے دیہی علاقے اواز کی تاریخی ایجاد ہے، سوئٹزرلینڈ کی نہیں۔
- روایتی تیاری میں دودھ کو جمائے جانے اور چھاننے کے طویل مراحل شامل ہیں۔
- ژاں ماری بودوئن جیسے پنیر ساز آج بھی اس قدیم طریقے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
- سن 1851 میں چارلز جروا نے اسی گاؤں سے ترکیب حاصل کر کے اسے مشہور بنایا۔
یہ کہانی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کھانے کی بڑی بڑی صنعتیں اکثر چھوٹے دیہاتوں کی سادہ روایات سے جنم لیتی ہیں، اور ویلیئر سور اوشی کا یہ گاؤں آج بھی اپنی اس تاریخی وراثت پر فخر کرتا ہے۔
