وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو کہا کہ توانائی کا تحفظ ملک کی مستقبل کی منصوبہ بندی کا ایک اہم حصہ ہے اور موجودہ علاقائی صورتحال میں حکومت کی بروقت توانائی بچت کی پالیسیوں نے ایک بڑے بحران کو ٹلنے میں مدد دی۔
اسٹریٹجک ریزرو اور مستقبل کی منصوبہ بندی
وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں توانائی کی حفاظت سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک میں خام تیل کے اسٹریٹجک ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے ایک منصوبے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ توانائی کی حفاظت ہی مستقبل کی ترقی کی کنجی ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقلی
وزیراعظم نے توانائی کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے کہا کہ نقل و حمل کے ذرائع کو آہستہ آہستہ ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں (EVs) میں منتقل کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مستقبل میں سرکاری استعمال کے لیے صرف الیکٹرک بسیں اور موٹر سائیکلیں خریدی جائیں اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کو تیز کیا جائے۔
شمسی توانائی کے ذخیرے کی حوصلہ افزائی
وزیراعظم نے اضافی شمسی بجلی کو ذخیرہ کرنے کے لیے بیٹریوں کے حصول میں سہولت فراہم کرنے کی حکمت عملی بنانے پر زور دیا اور کہا کہ اعلیٰ معیار کی اسٹوریج بیٹریوں کی مقامی تیاری کو بھی فروغ دیا جائے۔
- قومی رابطہ اور انتظامی کونسل (NCMC) روزانہ کی بنیاد پر توانائی کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔
- پیٹرولیم مصنوعات کے کافی ذخائر دستیاب ہیں اور ملک میں غذائی تحفظ کی صورتحال بھی مستحکم ہے۔
- تیل اور گیس کمپنیوں کی مسلسل کوششوں سے گیس اور تیل کی مقامی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے۔
- گرڈ لیول پر بیٹری اسٹوریج کے دو پائلٹ پروجیکٹس کے لیے PC-I تیار کیا جا رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے اثرات
گزشتہ ماہ وزیراعظم شہباز نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ایندھن کے تحفظ کے متعدد اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ ان میں چار روزہ ورک ویک، مارکیٹوں کا جلدی بند کرنا، ایندھن الاؤنس میں کمی اور تمام سرکاری محکموں کے اخراجات میں 20 فیصد کمی شامل ہے۔ عالمی تیل کی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے پیش نظر پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا تھا۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے عالمی ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور دنیا بھر کے ممالک ایندھن اور توانائی کی بچت کے لیے کوشاں ہیں۔ ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری یہ تنازعہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملے کے بعد شروع ہوا تھا، جس کے جواب میں تہران نے خلیجی خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا اور تیل اور توانائی کی ترسیل کے اہم راستے آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بلاک کر دیا تھا۔
اجلاس میں وفاقی وزراء مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، سردار اویس لغاری، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، احسن اقبال، وزیراعظم کے مشیر نجکاری محمد علی، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، خصوصی معاون ہارون اختر اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
