اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں غیر معیاری سرنجوں کی تیاری اور استعمال پر فوری اور مکمل پابندی عائد کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ فیصلہ ایڈز اور ہیپاٹائٹس جیسی جان لیوا متعدی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت متعدی امراض کی روک تھام کے اقدامات پر جائزہ اجلاس میں انہوں نے واضح ہدایت جاری کی کہ غیر معیاری سرنجیں استعمال کرے والے افراد اور ہسپتالوں کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے مجرمانہ غفلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
قانونی ڈھانچے میں ترامیم اور ماہرین کی کمیٹی کی تشکیل
وزیراعظم نے وزارت قانون کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک میں ضروری ترامیم کے لیے تجاویز مرتب کرے۔ اس ضمن میں ایک خصوصی ماہرین کی کمیٹی بھی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا، جسے صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے بعد سفارشات تیار کرنے کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔
شہباز شریف نے اس موقع پر زور دیا کہ ایک جامع قومی حکمت عملی اور اس کا موثر نفاذ ہی اس مسئلے کا واحد پائیدار حل ہے۔ انہوں نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کو حکم دیا کہ وہ میڈیکل آلات کی صنعت سے مشاورت کرتے ہوئے ایسے پالیسی اقدامات تشکیل دے، جو سرنجوں کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں کا مستقل طور پر خاتمہ کر سکیں۔
بین الاقوامی شراکت داری اور تربیت پر زور
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے متعدی امراض کے خلاف جاری کوششوں میں بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل آلات کی تیاری اور ہیلتھ کیئر اسٹاف کی تربیت پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نظام میں موجود بنیادی کمزوریوں کو دور کیا جا سکے۔
بریفنگ کے دوران وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کردہ اسپیشل ٹاسک فورس اور وزارت قومی صحت نے متعدی امراض کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے اب تک اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ، اٹارنی جنرل پاکستان منصور اعوان، گلوبل فنڈ کی نمائندہ ایزاسکن گاویریا، صحت عامہ کے ماہرین اور اعلیٰ سرکاری حکام شریک ہوئے۔
