اسلام آباد: وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے منگل کے روز جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں ایک وفد سے ملاقات کی، جس میں دونوں فریقوں نے پٹرولیم ریلیف کے اقدامات اور پٹرولیم لیوی سے متعلق سفارشات کو حتمی شکل دینے کے لیے مشترکہ کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا۔
وزیرِاعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق وفد میں جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ، سید فراست شاہ، نصراللہ رندھاوا اور عنایت اللہ شامل تھے۔
مذاکرے کے ذریعے حل پر وزیرِاعظم کا اظہارِ تشکر
وزیرِاعظم نے وفد کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پٹرولیم قیمتوں کے معاملے پر مذاکرے کا راستہ اختیار کیا۔ جماعت اسلامی کے وفد نے پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے اپنا موقف پیش کیا۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ وہ پٹرولیم قیمتوں میں اضافے سے عوام پر پڑنے والے بوجھ کو مکمل طور پر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت علاقائی بحران کے حل کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہی ہے تاکہ صورتحال معمول پر آ سکے۔
موجودہ صورتحال حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ نہیں: وزیرِاعظم
وزیرِاعظم نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال حکومتی پالیسیوں سے منسلک نہیں بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی مالی استطاعت کے مطابق عوام کو ریلیف فراہم کر رہی ہے اور آئندہ بھی جاری رکھے گی۔
وزیرِاعظم نے وفد کو پٹرولیم مصنوعات پر اب تک کم آمدنی والے طبقات کو فراہم کیے گئے ریلیف سے آگاہ کیا اور بتایا کہ اس اسکیم کے تحت ایک کروڑ ستائیس لاکھ افراد کو رجسٹر کیا گیا ہے۔
کمیٹی کے دائرہ کار میں شامل امور
اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے تین تین ارکان پر مشتمل کمیٹی دو امور پر حتمی سفارشات پیش کرے گی:
- جاری پٹرول ریلیف اسکیم کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنا تاکہ زیادہ مستحق افراد مستفید ہو سکیں۔
- بجٹ میں پٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار کمی کے لیے قابلِ عمل تجاویز تیار کرنا۔
یہ پیش رفت حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پٹرولیم قیمتوں کے معاملے پر جاری مذاکرات کے سلسلے کی اہم کڑی ہے، جس کا مقصد عوام پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کرنا اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔
