لاہور: پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان نے مقامی حکومتوں کے آئینی تحفظ اور اختیارات کی مؤثر منتقلی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مضبوط مقامی ادارے جمہوری استحکام اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ناگزیر ہیں۔
بی این یو سینٹر فار پالیسی ریسرچ (BCPR) کی جانب سے تیار کردہ “مقامی حکومت میں اصلاحات سے متعلق ٹاسک فورس رپورٹ” کی تقریبِ اجرا سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ مقامی حکومتوں کو مناسب اختیارات اور وسائل فراہم کیے بغیر جمہوریت کے ثمرات عام شہریوں تک نہیں پہنچ سکتے۔
صوبائی سطح پر اختیارات کے ارتکاز کا مسئلہ
ملک محمد احمد خان نے مشاہدہ کیا کہ پاکستان میں مقامی ادارے صوبائی سطح پر اختیارات کے ارتکاز کے باعث اپنا مؤثر کردار ادا نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ 1973 کے آئین میں تصور کردہ جمہوری نظام کی تکمیل کے لیے مقامی حکومتوں کی مضبوطی ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اختیارات کی منتقلی محض ایک انتظامی تقاضا نہیں بلکہ گورننس میں شہریوں کی شرکت کا بنیادی پہلو ہے۔
نوآبادیاتی نظام کی باقیات
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ پاکستان کا انتظامی ڈھانچہ اب بھی نوآبادیاتی نظام کی خصوصیات لیے ہوئے ہے، اور حکمرانی کو عوامی ضروریات کے مطابق زیادہ جوابدہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ شہری مقامی امور کے بارے میں بامعنی فیصلے کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ مؤثر مقامی خودمختاری اور عوامی نمائندگی قومی ہم آہنگی کے لیے اہم ہے، اور بااختیار مقامی حکومتیں وسائل کی کمی اور محرومی کے احساس سے پیدا ہونے والی شکایات کو شہریوں کے قریب حل کر سکتی ہیں۔
پارلیمانی کاکس میں اراکین کی شرکت
ملک محمد احمد خان نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین نے مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں مشترکہ طور پر حصہ ڈالا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 80 سے زائد اراکین نے رضاکارانہ طور پر مقامی حکومتوں سے متعلق پارلیمانی کاکس میں شامل ہونے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
- مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت پر زور
- اختیارات کی منتقلی کو جمہوری شرکت کا بنیادی جزو قرار دیا گیا
- نوآبادیاتی دور کے انتظامی ڈھانچے کی اصلاح کی اپیل
- 80 سے زائد اراکینِ اسمبلی کی پارلیمانی کاکس میں شمولیت کی آمادگی
