geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
July 21, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • Why You Must Shower After Swimming, Per Dermatologistsسمندر یا پول میں تیراکی کے بعد نہانا محض صفائی نہیں، طبی ماہرین نے لازمی قرار دے دیا
    • US and Iran Halt Fire Again in Ormuz Strait Standoffآبنائے ہرمز پر دشمنی کا نیا خاتمہ، بحری آمد و رفت بحال؛ قطر میں تکنیکی مذاکرات متوقع
    • Heatwave Survival Guide for Summer Travelersگرمی کی لہر میں سفر: ماہرین کی انتباہات اور چھٹیاں محفوظ بنانے کے 7 سنہری اصول
    صحت و تندرستی
    • Why You Must Shower After Swimming, Per Dermatologistsسمندر یا پول میں تیراکی کے بعد نہانا محض صفائی نہیں، طبی ماہرین نے لازمی قرار دے دیا
    • France Braces for New Heatwave with Temperatures Soaring to 42°Cفرانس میں نئی قیامت خیز گرمی کی لہر، درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان
    • WMO Warns Strong El Niño to Develop Rapidly by Fallال نینو ستمبر تک طاقتور صورت اختیار کر لے گا، عالمی ادارے کی شدید موسم کی وارننگ
    دلچسپ اور عجیب
    • فرانس میں تاریخی قدم: بچوں کے ویڈیو گیم ‘پاپینز’ کی قیمت سوشل سیکیورٹی سے ادا کرنے کی سفارش
    • Southern France on Red Alert as Wildfire Danger Peaksفرانس میں جنگلات کی آگ کا ریڈ الرٹ: چھ اضلاع انتہائی خطرے کی زد میں، تیز ہوائیں پریشانی کا باعث
    • Wikipedia Founder Rejects AI for Article Editingوکیپیڈیا کے شریک بانی کا اے آئی ایڈیٹنگ کو مسترد کرنے کا اعلان، ’ہیلوسینیشنز‘ کو سنگین مسئلہ قرار دے دیا
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • فرانس میں تاریخی قدم: بچوں کے ویڈیو گیم ‘پاپینز’ کی قیمت سوشل سیکیورٹی سے ادا کرنے کی سفارش
    • WhatsApp to Drop Phone Numbers for Usernamesواٹس ایپ کا بڑا فیصلہ: اب موبائل نمبر شیئر کیے بغیر چیٹنگ ممکن، صارفین کے لیے پرائیویسی کا نیا دور
    • Anthropic to Require ID Verification for Claude Usersکلاڈ چیٹ بوٹ استعمال کرنے والوں کے لیے انتھروپک کی نئی شرط: شناخت اور عمر ثابت کرنا ہوگا
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

دیار غیر میں سیاسی سرگرمیاں اور تحریک انصاف

February 20, 2019 0 1 min read
PTI Imran Khan
Share this:

PTI  Imran Khan

تحریر : پروفیسر محمد حسین چوہان

فروری کے پہلے ہفتے میں برطانیہ میں پاکستانی و کشمیری سیاسی جماعتوں کی آمد و رفت کا سلسلہ کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے حوالے سے شروع ہو چکا تھا، وزیر خارجہ محمود قریشی کی آمد کیوجہ سے سیاسی ماحول زیادہ گرم ہو گیا تھا۔ پھر پانچ فروری کو برطانیہ بھر سے پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کے افراد بسوں اور نجی گاڑیوں پر لندن تشریف لائے۔خوبصورتی کا پہلو یہ ہے کی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی میں سبھی جماعتوں کے ا فرد ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے تھے، لوگوں کی معقول تتعداد جو ہزاروں میں تھی،بین الاقوامی برادری کو پیغام پہنچانے میں کامیاب رہی۔ برطانوی پارلیمنٹ کے ممبران کے اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیر یوں کے حق خود ارادیت کے حصول کی کامیاب نمائندگی کی۔سلطان محمود چودھری نے انگریزی میں بڑا موثر خطاب کیا ،جس پر تالیاں بھی بجائی گئیں۔

نون لیگ کے سنیٹر سید مشاہد حسین نے بھی کشمیر کاز پر موثر خطاب کیا۔آزاد کشمیر کے موجودہ صدر سردار مسعود خالد نے بھی مسئلہ کشمیر پر مختصر جامع خطاب کیا،برطانیہ میں پہلی بار ساری سیاسی جماعتوں نے اکھٹے ہو کر قومی اور علاقائی مسائل پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے احتجاج کیا،مگر برطانیہ میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی سر گرمیاں دوسری جماعتوں کی بہ نسبت زیادہ تھیں۔برطانیہ بھر سے تشریف لانے والوں کی اکثریت کا تعلق تحریک انصاف سے تھا۔اس احتجاج کو کامیاب کرنے میں پاکستان تحریک انصاف پیش پیش تھی،جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے افراد کی شرکت واجبی تھی۔

پانچ فروری کو آزاد کشمیر نون لیگ کے صدر مسعود خالد غائب ہو چکے تھے۔پیپلز پارٹی کی طرف سے چودھری یسین اور مسلم کانفرنس کے قائد سردار عتیق بہ نفس نفیس موجود تھے، مگر ان کے کارکنوں کی تعداد بہت کم تھی۔اس کے بعدوزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تارکین وطن سے ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے تین مزید سیاسی بیٹھکیں لندن،برمنگھم،اور مانچسٹر میں کیں،بیرسٹر سلطان محمود کی موجودگی اور کاوشوں سے ان اجلاسوں کو مزید جلا بخشی گئی۔پیپلز پارٹی اپنی بقا کی بر طانیہ میں سر توڑ کو شش کر رہی ہے۔آزاد کشمیر کے صدر چودھری لطیف اکبر آجکل بر طانیہ کے دورے پر ہیں،نائب صدر مطلوب انقلابی اور چودھری یسین بھی اپنی سیاسی بیل کو منڈھے چڑھانے میں سرگرداں ہیں،مگر برطانیہ ان تین سیاسی جماعتوں ،نون لیگ،پیپلز پارٹی اور مسلم کانفرنس کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے ۔ جو چند ان جماعتوں کے بچے کھچے کارکن رہ گئے ہیں ان کی زہنی کیفیت ایک خلع یافتہ عورت کی سی ہے۔ لوگوں کی اکثریت تحریک انصاف کے بیانیے پر ایمان لا چکی ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پاکستانی و کشمیریوں کا سیاسی قبلہ بن چکا ہے۔قانون کی حکمرانی اور سوشل ڈیمو کریسی کے جو مظاہر وہ یہاں دیکھتے ہیں ویسا ہی سیاسی ماحول یہ اپنے ملک میں بھی دیکھنا چاہتے ہیںْتارکین وطن تحریک انصاف کی لبرل ڈیمو کریسی اور قانون کی حکمرانی کو عملی شکل میں دیکھنے کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔اس بنا پر مغربی ممالک میں آباد پاکستانیوں کی کثیر تعداد روائیتی سیاست سے متنفر ہو چکی ہے۔

بیرسٹر سلطان محمود لبرل اور سوشل ڈیمو کریسی کی نمائندگی کر رہے ہیں،تحریک انصاف کے بیانیے کو کشمیر میں بھی متعارف کرا رہے ہیں ،ان پر مسئلہ کشمیر کی زمہ داریاں بھی ہیں ،اس سلسلے میں پانچ فروری کے بعد بھی ان کا سفر جاری وساری رہا،انہوں نے امریکہ میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کیساتھ ناشتہ میں کشمیر کے مسئلہ کو اجاگر کیا،وہاں بھی حق خود ارادیت کے لئے احتجاج کئے۔پھر واپسی لندن میں بھی یہ سلسلہ چلتا رہا۔اس سلسلے میں ان کو کافی پزیرائی بھی حاصل ہوئی،برطانیہ میں تنطیم سازی کی زمہ داریاں بھی نبھائیں،آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کی تنظیم سازی سے لے کر اس کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کا اتنے مخٹصر عرصہ میں کریڈت انہی کو جاتا ہے بلکہ آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی ایک مضبوط سیاسی جماعت بن چکی ہے،نئی نسل تحریک انصاف کے بیانیے کو قبول کر رہی ہیں،جہاں برادریوں اور کھڑپینچوں کی سیاست کی جاتی تھی نئی نسل اس سے نجات حاصل کر رہی ہے۔

بیرسٹر صاحب کے لئے ایک مسئلہ ہو گا کہ برادریوں کے چنگل سے آزاد ہو کر پارٹی کو عوام تک کیسے متعارف و مقبول کیا جائے،نوجوان نسل میں ٹیلنٹ ہے ،جب تک مختلف قبائل سے ٹیلینٹ مستعار نہیں لی جاتی تحریک انصاف تو کیا کوئی بھی سیاسی جماعت کشمیر میں جڑپکڑ نہیں سکتی،کیونکہ آزاد کشمیر کی سیاسی و سماجی ساخت برادری و قبائلی نظام پر قائم ہے،مگر تحریک انصاف اس نظریہ پر قائم نہیں۔بیرسٹر صاحب اکیلے نہیں بلکہ ان کے پرانے ساتھیوںپر یہ زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ کشمیر میں تمام قبائل کو ساتھ لے کر چلیں اور باہمی احترام و عزت سے تحریک انصاف کے بیانیہ کو سیاسی طاقت سے ہمکنار کریں،کیونکہ صاحب صلاحیت کارکن کسی جماعت ومعاشرے کا بہترین اثاثہ ہوتے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کی ترقی میں صرف لیڈر کا کردار اتنا اہم نہیں ہوتا جتنا اس کے پکے کارکنوں کا ہوتا ہے۔آزاد کشمیر کی سیاست میں بڑے قبائل کبھی بھی اکیلے کامیابی حاصل نہیں کر سکتے جب تک وہ دوسرے قبائل کو نمائندگی نہیں دیتے۔تحریک انصاف متوسط اور زیریں متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت ہے اس کو جدید علمی و سیاسی فکر سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، جو اصلاحات اور سیاسی وسماجی ہیت میں رد تشکیل کرنا چاہتی ہے۔معاشرہ ارتقاکا سفر تیزی سے طے کر رہا ہے اس بنا پر مختلف قبائل اور طبقات کو تحریک انصاف کے قومی دھارے میں لانا ضروری ہو گیا ہے۔بیرسٹر صاحب نے مختصر عرصہ میں اس سلسلے میں بہت کام کیا ہے ،مگر اتنا کافی نہیں اس کے لئے روائتی سیاسی کارکنوں کو بھی خندہ پیشانی اور وسیع القلبی سے دوسروں سے تعلق قائم کرنا ہو گا ،کیونکہ آزاد کشمیر میں ہر طبقے وبرادری کا فرد تبدیلی کا خواہاں ہے اس کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے ادھر برطانیہ میں بھی چودھری حکمداد،چودھری فاروق۔چودھری دلپذیر جیسے سیاسی نو رتن انکے پاس موجود ہیں،جن کی کاوشوں سے جماعت میں جان پیدا ہو گئی ہے،کیونکہ آزاد کشمیر کی سیاست کو بلواسطہ آکسیجن برطانوی کشمیری ہی فراہم کرتے ہیں،حالیہ تحریک انصاف برطانیہ نے تحریک انصاف کشمیر کیساتھ مل کر احتجاجی جلسوں کو طاقت بخشی۔لندن میں اس سلسلے میں رومی ملک کا کردار مثالی رہا۔مسئلہ صرف یہ ہے کہ آزاد کشمیر اور بیرونی ممالک میں تحریک انصاف کو جدید لبرل قدروں سے کیسے ہم آہنگ کیا جائے اور روائتی سیاسی اثرات سے جماعت کو کیسے محفوظ کیا جائے۔
Professor Mohammad Hussain Chohan

تحریر : پروفیسر محمد حسین چوہان

mh-chohan@hotmail.co.uk

Share this:
Group Photo
Previous Post آل پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن باجوڑ کابینہ کا دورہ مہمند، مہمند کابینہ کے ساتھ ملاقات کی
Next Post گزشتہ سال کے مقابل رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں 233 ارب اضافی مالی خسارہ
Rupees

Related Posts

Why You Must Shower After Swimming, Per Dermatologists

سمندر یا پول میں تیراکی کے بعد نہانا محض صفائی نہیں، طبی ماہرین نے لازمی قرار دے دیا

July 20, 2026
Bones Found in Tarn Confirmed as Delphine Jubillar

ڈی این اے تجزیے نے تصدیق کر دی: ملنے والی باقیات ڈیلفین جوبیلار کی ہی ہیں، شوہر نے قتل کا اعتراف کر رکھا ہے

July 20, 2026
Argentina's World Cup Final Meltdown Mars Spain's Victory

ورلڈ کپ فائنل کی شکست پر ارجنٹائن کا غصہ پھوٹ پڑا، لیانڈرو پیرڈیس نے ہسپانوی کھلاڑیوں پر حملہ کر دیا

July 20, 2026
Town Seals Off Site Where Delphine Aussaguel's Remains Were Found

ڈیلفین جوبلار کی باقیات والی جگہ پر سیاحوں کا ہجوم، میونسپلٹی نے رسائی بند کر دی

July 20, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.