میٹز: پوپ لیو چہاردہم نے فرانس کے چار روزہ تاریخی دورے کا اختتام کرتے ہوئے میٹز شہر میں آخری عبادت ادا کی اور اس کے بعد روم کے لیے روانہ ہو گئے۔ یہ دورہ نہ صرف مذہبی اعتبار سے اہم تھا بلکہ اس میں یورپی سیاست اور بین المذاہب مکالمے کے حوالے سے اہم پیغامات بھی شامل تھے۔
میٹز میں آخری عبادت اور عقیدت مندوں کا اجتماع
پوپ لیو چہاردہم نے میٹز کے تاریخی کیتھیڈرل میں اپنی آخری عبادت ادا کی، جس میں تقریباً پینتیس ہزار عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ ویٹیکن کے مطابق، کیتھیڈرل کے اندر اور اس کے آس پاس بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ عبادت کے دوران پوپ نے کیتھیڈرل میں موجود مارک شیگل کے مشہور شیشے کے نقش و نگار کو خراج تحسین پیش کیا اور انہیں بین المذاہب مکالمے کی علامت قرار دیا۔
عبادت کے بعد پوپ نے کیتھیڈرل کے باہر جمع عقیدت مندوں سے ملاقات کی اور ان سے گفتگو کی۔ اس کے بعد وہ میٹز ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوئے، جہاں سے انہوں نے شام ساڑھے سات بجے روم کے لیے پرواز کی۔
بین المذاہب مکالمے کا آغاز
پوپ کے دن کا آغاز میٹز کے رابرٹ شومن کنونشن سینٹر میں ایک بین المذاہب ملاقات سے ہوا، جس میں فرانس کے تمام بڑے مذاہب کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس ملاقات میں کیتھولک، پروٹسٹنٹ، یہودی، مسلم، آرتھوڈوکس اور بدھ مت کے نمائندے شامل تھے۔ اس موقع پر ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔
یورپ کو درپیش چیلنجز پر پوپ کا پیغام
میٹز میں یورپ کی تعمیر اور امن کے موضوع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو چہاردہم نے یورپی سرزمین پر جنگ کی واپسی پر تشویش کا اظہار کیا اور مذاکرات میں جرات کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے بین الاقوامی تعلقات میں جھوٹ اور دھوکے کے خلاف جنگ لڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس تقریب میں فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون بھی موجود تھے، جنہوں نے یورپ کو اپنے بانیوں کی جرات دوبارہ حاصل کرنے کی تلقین کی اور قوم پرستی کی واپسی کے خلاف خبردار کیا۔
میکرون کا پوپ کا شکریہ
صدر ایمانوئل میکرون نے اپنے ایک پیغام میں پوپ کا فرانس کے دورے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوپ نے صرف فرانس کا سفر نہیں کیا بلکہ اس کے عوام سے ملاقات کی۔ فرانس آپ کا تہہ دل سے شکر گزار ہے اور آپ کی آمد کی امید کی گونج طویل عرصے تک محفوظ رہے گی۔
دورے کی اہم جھلکیاں
- چار روزہ دورے کا اختتام میٹز میں تاریخی کیتھیڈرل میں آخری عبادت کے ساتھ ہوا
- پینتیس ہزار سے زائد عقیدت مندوں نے عبادت میں شرکت کی
- بین المذاہب ملاقات میں تمام بڑے مذاہب کے رہنماؤں نے شرکت کی
- پوپ نے یورپ میں امن اور مکالمے کی اپیل کی
- صدر میکرون نے پوپ کا شکریہ ادا کیا
یہ دورہ فرانس اور ویٹیکن کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا ہے، جس نے نہ صرف مذہبی ہم آہنگی بلکہ یورپی اتحاد اور امن کے پیغام کو بھی تقویت دی ہے۔
