geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
February 10, 2026
  • Geo Urdu France
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • English
  • French
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • Crushed Empress Eugénie's Crown Revealed After Louvre Heistلوور میوزیم نے شہنشاہ نگار کے تاریخی تاج کی تباہ حال تصاویر جاری کردیں
    • A new geopolitical chessboardچین کے عروج سے بدلتی عالمی طاقت کی کشمکش
    • The common fruit juice that could control blood pressure and calm inflammationنارنجی کا جوس: بلڈ پریشر کنٹرول اور سوزش میں کمی کا قدرتی حل
    صحت و تندرستی
    • Immunotherapy: A Rising Star in Cancer and Infectious Disease Fightامیونوتھراپی: کینسر اور انفیکشس امراض کے خلاف ایک انقلابی علاج
    • Nearly 40% of Global Cancer Cases Linked to Avoidable Risksدنیا میں ہر دس میں سے چار سرطان قابلِ تدارک عوامل سے پھیل رہے ہیں، نئی تحقیق میں انکشاف
    • Pekin Express Star Julie Shaves Head Amid Cancer Battle’پیکن ایکسپریس‘ کی جولی کینسر کے خلاف جنگ میں سر منڈواتی ہیں، ہمدردی کی لہر
    دلچسپ اور عجیب
    • Crushed Empress Eugénie's Crown Revealed After Louvre Heistلوور میوزیم نے شہنشاہ نگار کے تاریخی تاج کی تباہ حال تصاویر جاری کردیں
    • Eco-Friendly Coffee Alternatives Gain Popularity in Franceماحول دوست متبادل: کیفے کی جگہ چکوری، لیوپن اور جو کا استعمال بڑھ رہا ہے
    • Error establishing a database connectionلاہور میں 25 سالہ پابندی کے بعد تین روزہ بسنت تیوہار کی تیاریاں عروج پر
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Pakistan Nears Historic Space Mission with Chinese Trainingپاکستانی خلابازوں کا چین کے خلائی اسٹیشن مشن کے لیے انتخاب، تاریخی پیش رفت
    • Apple Won the AI War Without Firing a Shot—And That's the Problemایپل نے ایک بھی گولی چلائے بغیر اے آئی کی جنگ جیت لی، اور شاید یہی اس کا مسئلہ ہے
    • Adobe Reverses Decision to Discontinue Animate Softwareایڈوبی کا بڑا فیصلہ واپس لیا، اینیمیٹ سافٹ ویئر اب بھی دستیاب رہے گا
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری

صدارتی نظام کا ڈھنڈورا

January 24, 2022January 24, 2022 0 1 min read
Elections
Share this:

Elections

تحریر: پروفیسر رفعت مظہر

آجکل پاکستان میں صدارتی نظامِ حکومت کے نفاذ کی سرگوشیاں فضاؤں میں۔ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر بھی یہ بحث شدّومد سے جاری ہے اور دروغ بَر گردنِ راوی یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ ریفرنڈم کے ذریعے صدارتی نظام کے حق میں رائے لی جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسا ہونا ممکن ہے؟، لیکن اِس سے پہلے پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں۔قیامِ پاکستان سے 1957ء تک کی دہائی صدارتی نظامِ جمہوریت ہی کی ایک قسم تھی کیونکہ اِس میں گورنر جنرل ہمہ مقتدر ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اِس دَور میں کئی وزرائے اعظم کی چھٹی کروائی گئی۔

یہ وہی دَور ہے جس میں بھارتی وزیرِاعظم جواہرلال نہرو نے طنز کیا تھا کہ وہ اتنے پائجامے نہیں بدلتا جتنے پاکستان میں وزیرِاعظم بدلتے ہیں۔ 1958ء سے 1969ء تک صدر ایوب خاں کا دَورِ حکومت رہا۔ اِسی عرصے میں 1962ء کا صدارتی آئین تشکیل دیا گیا۔ یہی وہی دَور ہے جس میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا بیج بویا گیا جو 1969ء تک تن آور درخت بن چکا تھا۔ 1969ء سے 1971ء تک صدر یحییٰ خاں کا دورِحکومت رہا جس میں 16 دسمبر 1971ء کو پاکستان دولخت ہوا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے۔ وہ بھی دسمبر 1971ء سے اگست 1973ء تک مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدرِ پاکستان رہے۔ پھر 1973ء کے آئین کے ذریعے پارلیمانی نظامِ جمہوریت کی بنیاد رکھی گئی لیکن 1977ء میں ضیاء الحق کے مارشل لاء کے ذریعے ایک دفعہ پھر ملک پر صدارتی نظام ِ حکومت مسلط ہوا جو اُن کی طیارہ حادثے میں موت (1988ئ) تک قائم رہا۔ یہی وہ دَور ہے جس میں پاکستان نے افغان جنگ میں شرکت کی اور کلاشنکوف کلچر نے جنم لیا۔ ضیاء الحق ہی کے دَور میںآٹھویں آئینی ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 58-B2 کا نفاذ ہوا۔ اِسی آئینی ترمیم کے تحت ضیاء لحق نے منتخب وزیرِ اعظم محمد خاں جونیجو کی حکومت کا خاتمہ کیا۔ آٹھویں ترمیم ہی کے ذریعے صدر غلام اسحاق خاں نے پہلے 1990ء میں وزیرِاعظم بینظیر بھٹو اور پھر 1993ء میں وزیرِاعظم نوازشریف کی حکومت کا خاتمہ کیا۔ اِسی آئینی ترمیم کے تحت پیپلزپارٹی کے اپنے ہی منتخب کردہ صدر فاروق لغاری نے دوسری دفعہ بینظیر بھٹو کی حکومت کا خاتمہ کیا۔

اکتوبر 1999ء میں پرویز مشرف نے منتخب وزیرِاعظم میاںنوازشریف کی حکومت کا تختہ اُلٹا۔ پرویزمشرف اگست 2008ء تک ہمہ مقتدر صدر رہا۔ پرویز مشرف ہی کے دَور میں پاکستان اندھی اور بے چہرہ افغان جنگ میں شریک ہوا۔ پرویز مشرف نے ایک فون کال پر امریکہ کو وہ کچھ بھی دے دیا جس کا اُس نے مطالبہ بھی نہیں کیا تھا۔ یہ وہی دَور ہے جس میں تحریکِ طالبان پاکستان نے جنم لیا۔ امریکہ کی اِس جنگ میں ہم نے فوجی جوانوں سمیت لگ بھگ 80 ہزار افراد شہید کروائے، اپنی معیشت کا بیڑا غرق کیا اور اِس اندھی جنگ میں اربوں ڈالرز کا نقصان اُٹھایا۔ تحریکِ طالبان پاکستان نامی ناسور اب بھی قائم ہے اور افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد افغان طالبان کے منع کرنے کے باوجود یہ فتنہ ایک دفعہ پھر سَر اُٹھا رہا ہے ۔ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ کا جائزہ لینے سے عیاں ہوتا ہے کہ اس میں دوتہائی حصّہ صدارتی نظامِ حکومت کا بنتا ہے۔اِس تمام عرصے میں ملک کا بھلا ہوا نہ قوم کا۔ حقیقت یہ کہ نظام پارلیمانی ہو یا صدارتی اگر نیتوں میں فتور ہو تو بھلائی کی توقع عبث۔

صدارتی نظامِ حکومت کی تاریخ کا مختصر جائزہ لینے سے عیاں ہوتا ہے کہ پاکستان میں صدارتی نظام کی روح کسی ایک فرد میں طاقت کا ارتقاز ہے، ایسا ارتقاز کہ ہمہ مقتدر جو مَن میں آئے کر گزرے اور اُس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ ہو۔ اگر بغور دیکھا جائے تو یہ نظامِ حکومت تو کم از کم پاکستان میں آمریت کی بدترین قسم ہے۔ اب پاکستان میں صدارتی نظامِ حکومت کسی کی خواہش تو ہو سکتی ہے لیکن 1973ء کا آئین کسی ایسے ریفرنڈم کی ہرگز اجازت نہیں دیتا جو آئین کی روح کے منافی ہو۔ 1973ء کے آئین کا بنیادی ڈھانچہ ہی پارلیمانی نظامِ حکومت پر استوار ہے اور اِس بنیاد کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں سے کوئی بھی تبدیل نہیں کر سکتا۔ اگر آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنا مقصود ہو تو پھر اِسی سوال پر الیکشن لڑا جائے گا اور الیکشن جیتنے کی صورت میں ہی بنیادی ڈھانچہ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اِس کے علاوہ آئینی طور پر ڈھانچہ تبدیل کرنے کی کوئی صورت موجود نہیں۔ اِس لیے یہ بحث ہی فضول ہے کہ کسی ریفرنڈم کے ذریعے پارلیمانی نظامِ حکومت کو صدارتی نظامِ حکومت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

ویسے بھی ہمارے ہاں نظام پارلیمانی ہو یا صدارتی، ہماری سیاست ہمیشہ شخصیات کے گرد ہی گھومتی رہتی ہے۔ آج بھی پیپلزپارٹی کی سیاست ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے گرد گھوم رہی ہے اور کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ جماعتی اقتدار اِس خاندان سے باہر بھی جا سکتا ہے۔ نوازلیگ کی سیاست سے اگر شریف خاندان کو الگ کر دیا جائے تو باقی کچھ نہیں بچتا۔ کسی بھی نون لیگئیے سے پوچھ کر دیکھ لیںاُس کا جواب یہی ہوگا کہ ووٹ نوازشریف کا ہے۔ حالانکہ سبھی جانتے ہیں کہ میاںنوازشریف کو پاکستان کی اعلیٰ ترین عدلیہ نے تاحیات نااہل کیا ہوا ہے۔

اگر تحریکِ انصاف کی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو محترم عمران خاں نے ہر اُس شخص کو کان سے پکڑ کر نکال باہر کیا جس نے اُن سے اختلاف کیا۔ پارٹی انتخابات میں خاںصاحب نے پہلے خود ہی جسٹس (ر) وجیہ الدین کو انکوائری کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا لیکن جب جسٹس صاحب نے خاںصاحب کی مرضی کے خلاف کچھ اصحاب کو کرپٹ قرار دیتے ہوئے اُن کی پارٹی رکنیت ختم کرنے کی سفارش کی تو جسٹس صاحب کو ہی پارٹی سے نکال دیا۔ جاوید ہاشمی کو منتوں ترلوں کے ساتھ پارٹی میں شامل کرکے صدر کا عہدہ پیش کیا لیکن جب ہاشمی صاحب نے خاںصاحب سے اختلاف کرتے ہوئے پریس کانفرنس کی تو اُنہیں فارغ کر دیا گیا۔ تحریکِ انصاف کے بانی رکن اور معروف وکیل حامد خاں کو بھی اختلاف کی بنا پر نکال باہر کیا۔

پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے فارن فنڈنگ کیس میںسچ بولا تو اُنہیں بھی تحریکِ انصاف سے نکال دیا گیا، یہ الگ بات ہے کہ اکبر ایس بابر آج بھی اپنے آپ کو پارٹی کا بنیادی رکن قرار دیتے ہیں۔ (گزشتہ 8 سالوں سے یہی فارن فنڈنگ کیس الیکشن کمیشن میں زیرِ التوا اور فیصلے کا منتظر)۔ قومی اسمبلی کے رکن نور عالم خاں نے پارلیمنٹ میںخاںصاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی اگلی تین قطاروں میں بیٹھے ہوئے پارلیمنٹیرینز کے نام ECL میں ڈال دیں کیونکہ اِن کی کرپشن اظہرمِن الشمس۔ خاں صاحب کو نورعالم خاں کا یہ گستاخانہ سچ پسند نہ آیااور اُسے نہ صرف شوکاز نوٹس دیا بلکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی رکنیت سے بھی فارغ کر دیا۔ وزیرِ دفاع پرویز خٹک نے پارٹی میٹنگ میں کھری کھری سنائیںلیکن چونکہ پرویز خٹک کا گروپ بہت مضبوط ہے اِس لیے اُسے خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کا صدر بنا دیا گیا۔تحریکِ انصاف کے سابق سیکرٹری اطلاعات احمد جواز کے انکشافات بھی حیران کُن۔اُسے بھی شو کاز نوٹس ملاجس کا جواب دیتے ہوئے اُس نے خاںصاحب سے اُلٹا 30 سوالات کرتے ہوئے ہوشربا انکشافات کیے۔

دسمبر 2021ء میں خیبرپختونخوا کے 17 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات ہوئے۔ کے پی کے میں تحریکِ انصاف کی بِلاشرکتِ غیرے حکومت ہے اِس لیے عام خیال یہی تھا کہ اِن سترہ اضلاع میں تحریکِ انصاف کلین سویپ کرے گی لیکن اِن اضلاع میں بھی تحریک کو بُری ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور بازی لے گئے مولانا فضل الرحمٰن۔ ہمہ مقتدر چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خاں نے جلال میں آکر پاکستان میں تحریکِ انصاف کی تمام تنظیموں کو فارغ کر دیاحالانکہ پارٹی آئین کے مطابق وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے۔سوال یہ ہے کہ اگر صدارتی نظام کا نفاذ ہو جائے تو کیا خاں صاحب کی ذات موجودہ طاقت سے بڑھ کر بھی لطف اندوز ہو سکتی ہے؟۔
Prof Riffat Mazhar

تحریر: پروفیسر رفعت مظہر

Share this:
Azam Swati
Previous Post ریلوے اراضی سے تجاوزات کا خاتمہ، سرکلر ریلوے پر کام تیز کیا جائیگا، وزیر ریلوے
Next Post اوسلو: طالبان اور مغربی نمائندوں میں پہلے دن کیا بات ہوئی؟
Taliban

Related Posts

Houthi Militia

حوثی ملیشیا کی شہری آبادی پر وحشیانہ گولہ باری سے تین خواتین جاں بحق

April 5, 2019
Coronavirus

دنیا کو کرونا سے معاشی تغیرات و ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا

April 12, 2020
China India Tensions

چین بھارت کشیدگی: کیا کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی ممکن ہے؟

June 18, 2020
Shahbaz Sharif

انڈیمنٹی بانڈ کی آڑ میں تاوان کسی صورت قبول نہیں: شہباز شریف

November 15, 2019

Popular Posts

1 Vladimir Putin

امریکی میزائل تجربے کا جواب دیا جائے، پوٹن کی ہدایات

2 Imad Wasim

قومی کرکٹر عماد وسیم بھی رشتہ ازدواج میں منسلک

3 Meeting

انجینئر افتخار چودھری نے ریاٹرڈ جرنیل ڈاکٹر محمد مصطفی الجہنی سے ملاقات کی

4 Shah Mahmood Qureshi - António Guterres

شاہ محمود قریشی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے درمیان رابطہ طے پا گیا

5 Khamisani Socail Welfare Trust

محمد سلیم خمیسانی کا سیفی ویلفیئر سوسائٹی کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد

6 Indian Army in Kashmir

کرفیو اور لاک ڈاؤن کے باوجود ہزاروں کشمیریوں کا بھارت کیخلاف مظاہرہ

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.