عالمی ادارہ صحت کی ایجنسی برائے سرطان کے ایک تازہ تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں ہونے والے تقریباً چار میں سے ایک سرطان تمباکو نوشی، انفیکشنز، شراب نوشی اور فضائی آلودگی جیسے قابلِ تدارک اسباب سے پھیلتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار، جو بدھ 3 فروری کو جاری کیے گئے، صحت عامہ کے شعبے میں بہتر پرہیز کی پالیسیوں پر زور دیتے ہیں۔
نئی تحقیق کے اہم نتائج
سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والی یہ تحقیق، جو عالمی یومِ سرطان سے ایک دن قبل منظرِ عام پر آئی ہے، بتاتی ہے کہ 2022 میں شناخت ہونے والے 37.8 فیصد نئے سرطان کے مریضوں، یعنی تقریباً 71 لاکھ کیسز، کا تعلق ایسے اسباب سے تھا جن سے بچا جا سکتا تھا۔
اگرچہ صحت عامہ اور سرطان کے ماہرین اکثر قابلِ تدارک خطرات کی اہمیت کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں، لیکن یہ تحقیق ان عوامل کے سرطان کی شرح پر اثرات کو نئی تفصیل سے جانچتی ہے۔
سرطان کی سب سے بڑی قابلِ تدارک وجہ
محققین نے 30 قابلِ تدارک خطرے والے عوامل کا جائزہ لیا، جن میں تمباکو، الکحل، زیادہ جسمانی وزن، جسمانی سرگرمی کی کمی، فضائی آلودگی، بالائے بنفشی شعاعیں اور پہلی بار نو سرطان پھیلانے والے انفیکشنز شامل ہیں۔
185 ممالک اور سرطان کی 36 اقسام کے ڈیٹا کے تجزیے کے بعد تحقیق میں تمباکو نوشی کو عالمی سطح پر سرطان کی سب سے بڑی قابلِ تدارک وجہ قرار دیا گیا ہے، جو نئے کیسز کے 15 فیصد کے ذمہ دار ہے۔ اس کے بعد انفیکشنز (10 فیصد) اور شراب نوشی (3 فیصد) کا نمبر آتا ہے۔
دنیا بھر میں مردوں اور خواتین میں ہونے والے قابلِ تدارک سرطانوں میں سے تقریباً آدھے صرف تین اقسام کے سرطانوں پر مشتمل ہیں: پھیپھڑوں کا سرطان، معدے کا سرطان، اور بچہ دانی کے گردن کا سرطان۔
- پھیپھڑوں کے سرطان کا تعلق بنیادی طور پر تمباکو نوشی اور فضائی آلودگی سے ہے۔
- معدے کے سرطان کی بڑی وجہ ہیلیکوبیکٹر پائلوری بیکٹیریا کا انفیکشن ہے۔
- بچہ دانی کے گردن کے سرطان کی اکثریت ہیومن پاپیلوما وائرس (HPV) سے پھیلتی ہے۔
مردوں پر زیادہ اثر
تحقیق میں مردوں اور خواتین کے درمیان اہم فرق بھی سامنے آیا ہے۔ قابلِ تدارک سرطانوں کا تناسب مردوں میں خواتین کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے: 2022 میں مردوں میں نئے سرطان کے 45 فیصد کیسز جبکہ خواتین میں صرف 30 فیصد۔
دنیا بھر میں مردوں میں، تمباکو نوشی نئے سرطان کے تقریباً 23 فیصد کیسز کی وجہ بنی، جبکہ خواتین میں انفیکشنز 11 فیصد نئے کیسز کے ساتھ سرفہرست رہے، اس کے بعد تمباکو نوشی (6 فیصد) اور زیادہ جسمانی وزن (3 فیصد) کا نمبر آیا۔
خطوں کے لحاظ سے بھی فرق پایا گیا۔ خواتین میں، قابلِ تدارک سرطانوں کی شرح شمالی افریقہ اور مغربی ایشیا میں 24 فیصد سے لے کر ذیلی صحارائی افریقہ میں 38 فیصد تک تھی۔ مردوں میں، سب سے زیادہ بوجھ مشرقی ایشیا (57 فیصد) میں اور سب سے کم لاطینی امریکہ اور کیریبین (28 فیصد) میں دیکھا گیا۔
پرہیز کی اہمیت پر زور
ایجنسی برائے سرطان نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے ’قابلِ تدارک خطرے والے عوامل‘ پر کارروائی کی اہمیت پر زور دیا ہے تاکہ ’نہ صرف سرطان کی شرح میں کمی لائی جا سکے، بلکہ طویل مدتی صحت کی اخراجات کو بھی کم کیا جا سکے اور آبادی کی صحت و بہبود کو بہتر بنایا جا سکے‘۔ اس مقصد کے لیے ’صحت، تعلیم، توانائی، نقل و حمل اور محنت کے شعبوں میں مربوط کارروائی‘ ناگزیر ہے۔

