کراچی: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے فرنچائز مالکان نے وزیراعظم شہباز شریف سے اسٹیڈیمز میں تماشائیوں کو واپس آنے کی اجازت دینے کی اپیل کی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ تماشائیوں کے بغیر یہ ٹورنامنٹ نامکمل محسوس ہوتا ہے۔
بند دروازوں کے پیچھے جاری ہے پی ایس ایل کا گیارہواں سیزن
یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مارکی ٹورنامنٹ کا گیارہواں سیزن قومی وسائل کے تحفظ کے سرکاری اعلان کردہ اقدامات کے مطابق کراچی اور لاہور میں بند دروازوں کے پیچھے منعقد کیا جا رہا ہے۔ پی ایس ایل سیزن 11 کے آغاز سے قبل، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے اعلان کیا تھا کہ پی ایس ایل میچز تماشائیوں کے بغیر حکومت کی اخراجات میں کمی کے اقدامات کے حصے کے طور پر منعقد کیے جائیں گے۔ نقوی نے کہا کہ ٹورنامنٹ صرف دو مقامات، کراچی اور لاہور تک محدود رہے گا اور اس فیصلے کا مقصد عوامی نقل و حرکت کو کم کرنا ہے۔
فرنچائز مالکان کا وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ سے اجتماعی اپیل
کئی فرنچائز مالکان نے تماشائیوں کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا کا رخ کیا، اس بات پر زور دیا کہ پرستاروں کی موجودگی لیگ کے ماحول اور شناخت کا لازمی حصہ ہے۔ انہوں نے وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ دونوں سے اپیل کی کہ موجودہ ایڈیشن کے دوران اسٹیڈیمز میں ہجوم کی اجازت دی جائے۔
مالکان کے جذبات اور بیانات
لاہور قلندرز کے مالک عاطف رانا نے وزیراعظم اور صوبائی قیادت کے نام اپنے پیغام میں کہا، “پی ایس ایل پاکستان کرکٹ کی تقریب ہے، لیکن پرستاروں کے بغیر یہ نامکمل ہے۔”
کراچی کنگز کے مالک سلمان اقبال نے اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “بطور بانی ٹیم مالک جو پہلے دن سے پی ایس ایل کا حصہ رہا ہوں، خالی اسٹیڈیم دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ میں وزیراعظم شہباز شریف سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ پرستاروں کو اسٹیڈیمز میں واپس آنے کی اجازت دیں۔ پی ایس ایل عوامی توانائی پر انحصار کرتی ہے، لہذا عوام کو دوبارہ کھیل کا حصہ بننے دیں۔ مجھے امید ہے کہ اسٹیڈیمز دوبارہ پوری گنجائش کے ساتھ بھرے نظر آئیں گے۔”
پشاور زلمی کے جاوید افریدی نے اس جذبے کی بازگشت سناتے ہوئے لیگ کی قومی اہمیت پر زور دیا: “پی ایس ایل لاکھوں پاکستانیوں کی زندگیوں کا اٹوٹ انگ ہے اور پوری قوم کے لیے اتحاد کا طاقتور ذریعہ ہے۔ ہمارے پرستاروں کا جذبہ، رنگ اور موجودگی اس لیگ کی حقیقی روح ہیں؛ ان کے بغیر، اس کی روح مجروح محسوس ہوتی ہے۔ میں وزیراعظم سے عاجزانہ گزارش کرتا ہوں کہ وہ پرستاروں کو اسٹیڈیمز میں واپس آنے کی اجازت دیں تاکہ یہ قومی تہوار ہمیں نہ صرف روحانی طور پر بلکہ اسٹینڈز سے بھی متحد رکھ سکے۔”
راولپنڈیز کے احسن طاہر نے کھیل اور اس کے حامیوں کے درمیان اجتماعی رشتے پر زور دیا: “پرستاروں کے بغیر کرکٹ نہیں ہوتی! میں وزیراعظم شہباز شریف سے عاجزانہ گزارش کرتا ہوں کہ وہ پی ایس ایل کے لیے پرستاروں کو اسٹیڈیمز میں واپس آنے کی اجازت دینے پر غور کریں۔”
اسلام آباد یونائیٹڈ کے مالک علی نقوی نے اسی طرح کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تماشائیوں کی توانائی پی ایس ایل کی دھڑکن ہے۔
حیدرآباد کنگسمین کے مالک فواد سروار نے نوٹ کیا کہ افتتاحی میچ کے دوران پرستاروں کی بہت کمی محسوس ہوئی اور ہجوم کے شور، ہر بارڈری اور وکٹ پر جشن منانے کی واپسی کا مطالب کیا۔
