کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں نئے کاروباری ہفتے کا آغاز مندی کے ساتھ ہوا۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے اعصاب پر دباؤ ڈالا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای-100 انڈیکس 1500 پوائنٹس سے زائد کی بڑی گراوٹ کا شکار ہوگیا۔
ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران، کے ایس ای-100 انڈیکس 1522.46 پوائنٹس کی کمی کے بعد 174,280.32 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر یہ انڈیکس 175,802.78 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، جس کے مقابلے میں یہ 0.87 فیصد کی منفی تبدیلی ظاہر کرتا ہے۔
عالمی منڈیوں پر بھی دباؤ، تیل کی قیمتیں بلند
یہ مندی صرف مقامی مارکیٹ تک محدود نہیں رہی۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے فوجی تنازعے کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے خدشات کو ہوا دی، جس سے پیر کے روز ایشیائی حصص کی منڈیاں بھی دباؤ میں رہیں۔ سرمایہ کاروں کی نظریں اب بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے آنے والے مالیاتی نتائج پر ہیں، جو مصنوعی ذہانت کی تجارت پر ان کے اعتماد کا مزید امتحان لیں گے۔
برینٹ کروڈ کی قیمت ایک ماہ سے زائد عرصے میں پہلی بار 90 ڈالر فی بیرل کی حد سے تجاوز کر گئی۔ یہ اضافہ اس وقت دیکھا گیا جب امریکی فوج نے ایران کے خلاف مسلسل نویں روز حملے شروع کیے، جس کے جواب میں ایران نے بھی پورے خطے میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ اتوار کے روز آبنائے ہرمز سے صرف مٹھی بھر بحری جہاز گزرے اور اطلاعات کے مطابق ایک جہاز کو آگ لگ گئی۔
ان حالات کے نتیجے میں، برینٹ خام تیل 2.6 فیصد اضافے کے ساتھ 90.40 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 2.3 فیصد چڑھ کر 84.39 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔
- گراوٹ کی اہم وجوہات: علاقائی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور خام تیل کی بڑھتی قیمتیں۔
- مارکیٹ کی موجودہ صورتحال: سرمایہ کار محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور بڑے پیمانے پر فروخت کا دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔
