کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں مندی کا رجحان جمعرات کو بھی جاری رہا، کیونکہ علاقائی کشیدگی اور عالمی مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے اعصاب پر دباؤ ڈالا۔ کے ایس ای-100 انڈیکس کاروبار کے ابتدائی اوقات میں 900 پوائنٹس سے زیادہ کی تنزلی کا شکار ہو کر 175,110 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔
یہ تیزی سے جاری کمی گزشتہ کاروباری روز کی کمزور بندش کے بعد دیکھی گئی، جب مارکیٹ 1,580 پوائنٹس کی بھاری مندی کے ساتھ 176,042 پوائنٹس پر بند ہوئی تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ پر دباؤ کی بڑی وجوہات میں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی لڑائی اور خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ شامل ہیں۔
عالمی منڈیوں کا ملاجلا ردعمل
دوسری جانب، ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں بھی شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے حوالے سے خدشات اور امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود کو مستحکم رکھنے کے فیصلے نے سرمایہ کاروں کو مخمصے میں ڈال دیا۔ جہاں جاپان کا نکئی انڈیکس 1.2 فیصد چڑھا، وہیں جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 0.6 فیصد کی کمی کے بعد ہفتہ وار 15 فیصد کی سلائیڈ کی طرف گامزن ہے، جس نے حکام کو مارکیٹ میں استحکام کے اقدامات متعارف کرانے پر مجبور کر دیا۔
خام تیل کی قیمتوں میں بے یقینی
برینٹ کروڈ کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل سے نیچے پھسل گئیں، حالانکہ ایک روز قبل مشرق وسطیٰ میں لڑائی میں شدت کے باعث ان میں 7 فیصد سے زیادہ کا زبردست اضافہ دیکھا گیا تھا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مسلسل حملوں کے باوجود ٹینکرز خطے سے نکلنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے رسد میں خلل کے خدشات کچھ کم ہوئے ہیں۔
سرمایہ کاروں کے لیے اہم نکات
- کے ایس ای-100 انڈیکس میں 900 پوائنٹس کی کمی، سطح 175,110 پر آ گئی۔
- گزشتہ سیشن میں 1,580 پوائنٹس کی ریکارڈ مندی دیکھی گئی۔
- علاقائی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مارکیٹ پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔
- عالمی ایشیائی منڈیوں میں بھی ملاجلا اور محتاط رجحان غالب رہا۔
مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک جغرافیائی سیاسی حالات میں وضاحت نہیں آتی اور عالمی معاشی پالیسیوں کا رخ متعین نہیں ہوتا، پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں یہ اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ سرمایہ کاروں کو محتاط حکمت عملی اپنانے اور طویل مدتی بنیادوں پر فیصلے کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔
