ہنگو: خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں منگل کی رات دیر گئے دہشت گردوں نے خزینہ بانڈہ چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا۔ پولیس کے مطابق، اس بزدلانہ حملے میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) دیار خان سمیت 11 پولیس اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔
شدید فائرنگ کے تبادلے میں 15 دہشت گرد ہلاک
پولیس ترجمان کے بیان کے مطابق، چیک پوسٹ پر تعینات جوانوں نے حملہ آوروں کے خلاف بھرپور مزاحمت کی۔ اس دوران ہونے والی فائرنگ کے تبادلے میں 15 دہشت گرد مارے گئے۔ ڈی ایس پی دیار خان بھی اپنے جوانوں کے ہمراہ بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) مجاہد حسین نے بتایا کہ آپریشن کے دوران 28 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ تمام زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
دہشت گردوں کی پولیس گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کی کارروائی
حملے کے دوران فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے تین پولیس گاڑیوں کو آگ لگا دی اور ایک گاڑی اپنے ساتھ لے گئے۔ پولیس نے بتایا کہ علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن تیز کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حملہ آور کو ختم کیا جا سکے۔
سینئر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زخمی اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہید ہونے والے جوانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد انہیں آبائی علاقوں میں سپرد خاک کر دیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں عوام اور افسران نے شرکت کی۔
وزیر داخلہ کا شہداء کو خراج عقیدت
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہنگو میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ بہادر پولیس اہلکاروں نے اپنی قیمتی جانیں قربان کر کے فتنہ الخوارج کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔
محسن نقوی نے شہید ہونے والے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر کھڑی ہے اور میں ان کی لازوال قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔
