geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
February 13, 2026
  • Geo Urdu France
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • English
  • French
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • Crushed Empress Eugénie's Crown Revealed After Louvre Heistلوور میوزیم نے شہنشاہ نگار کے تاریخی تاج کی تباہ حال تصاویر جاری کردیں
    • A new geopolitical chessboardچین کے عروج سے بدلتی عالمی طاقت کی کشمکش
    • The common fruit juice that could control blood pressure and calm inflammationنارنجی کا جوس: بلڈ پریشر کنٹرول اور سوزش میں کمی کا قدرتی حل
    صحت و تندرستی
    • France Proposes Universal Child Benefit to Combat Record Low Birth Rateفرانس میں پیدائش کی شرح میں تاریخی کمی، پارلیمانی رپورٹ میں “انقلابی” خاندانی پالیسی کی تجاویز
    • Pakistan Reports Second Mpox Death, Signals Local Transmissionپاکستان میں مپاکس سے دوسری ہلاکت، مریض ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس کا شکار تھا
    • Immunotherapy: A Rising Star in Cancer and Infectious Disease Fightامیونوتھراپی: کینسر اور انفیکشس امراض کے خلاف ایک انقلابی علاج
    دلچسپ اور عجیب
    • Crushed Empress Eugénie's Crown Revealed After Louvre Heistلوور میوزیم نے شہنشاہ نگار کے تاریخی تاج کی تباہ حال تصاویر جاری کردیں
    • Eco-Friendly Coffee Alternatives Gain Popularity in Franceماحول دوست متبادل: کیفے کی جگہ چکوری، لیوپن اور جو کا استعمال بڑھ رہا ہے
    • Error establishing a database connectionلاہور میں 25 سالہ پابندی کے بعد تین روزہ بسنت تیوہار کی تیاریاں عروج پر
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Gmail Finally Allows Users to Change Their Email Addressاب آپ اپنا جی میل ایڈریس تبدیل کر سکتے ہیں، گوگل نے نئی سہولت متعارف کرا دی
    • Study: AI Like ChatGPT Falls Short in Medical Diagnosisطبی تشخیص: ’نیچر میڈیسن‘ کی تحقیق کے مطابق چاٹ جی پی ٹی اور دیگر اے آئی ماڈلز کی کارکردگی مایوس کن
    • Pakistan Nears Historic Space Mission with Chinese Trainingپاکستانی خلابازوں کا چین کے خلائی اسٹیشن مشن کے لیے انتخاب، تاریخی پیش رفت
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری

قاضی حسین احمد جماعت اسلامی کے تیسرے امیر

April 21, 2020April 21, 2020 0 1 min read
Qazi Hussain Ahmed
Share this:

Qazi Hussain Ahmed

تحریر : میر افسر امان

قاضی حسین احمد میاں طفیل محمد کے بعد١٩٨٧ء میں امیر جماست اسلامی کے تیسرے منتخب ہوئے۔قاضی صاحب ١٢ جنوری ١٩٣٨ء کو صوابی کی تحصیل نوشہرہ کے ایک مردم خیز گائوں زیارت کاکاخیل میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد جمعیت علمائے ہند کے اعلیٰ عہدے دار تھے۔ قاضی حسین احمد کا نام مولانا حسین احمد مدنی کے نام پر رکھا گیا۔ قاضی صاحب کا خاندان سید احمد شہید اور سید اسماعیل شہید کی تحریک کا حصہ رہا ہے۔ یہ خاندان جب جماعت اسلامی کاحصہ بنا تو اس خاندان کے چشم و چراغ قاضی صاحب کے اندر، مولانا سید ابواعلی کی انقلابی تعلیمات کی وجہ سے نکھار پیدا ہوا۔قاضی صاحب جماعتی اور غیر جماعتی حلقوں میں یکساں مقبولیت کے حامل تھے۔ جماعت اسلامی کے اندرونی اور بیرونی حلقوں کی متفقہ رائے ہے کہ جماعت کے بنیادی دستور پر عمل کرتے ہوئے جماعت اسلامی کو عوامی جماعت بنانے میں قاضی صاحب کی سیماب طبیعت کا بڑا دخل ہے۔ جہاد کشمیر، افغانستان، فلسطین ، چیچنیا، برما کے روہنگیا، مغرب کے وسط میںبوسنیا، عراق اور دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمان اسلام کی نشاة ثانیہ کے لیے استعماری طاقتوں سے لڑتے رہے ۔ قاضی صاحب نے ان سب کی پشیتبانی کی۔ جماعت اسلامی کی ٢٢ سالہ امارت سے ٢٠٠٩ء میں فارغ ہو کر بھی ”ادارہ فکرو عمل” کے تحت ٢٠١٢ء میںایک عالمی کانفرنس ” وحدت امت”کے موضوع پر اسلام آباد منعقد کی۔

ہر انسان کو اللہ نے مختلف قسم کی خوبیوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ قاضی صاحب پیدائیشی مرد مجاہد، سیماب طبیعت ، جد و جہد اور ہردلعزیز شخصیت کے حامل تھے۔ مولانا مودودی کے زمانے سے ہی اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لیے ضرورت کے مطابق نئی راہیں اور نئے تجربات کرنا جماعت اسلامی کی روایت رہی ہے۔ جیسے انسانی حقوق کی بحالی کے لیے جماعت نے لبرل اور لیفٹ کے ساتھ مل کے کام کیا۔ اسلامی دستوری کا آغاز جماعت اسلامی نے کیا اور مشترکہ محاذ ١٩٥٠ء کی دہائی میں قائم ہوا۔ سیاسی جماعتوں کا متحدہ حزب اختلاف بنا، جس میں اسلام پسند ، قومیت پسنداور سیکولرسٹ سب شریک تھے۔ختم نبوت کی تحریک اور پھر بھٹو صاحب کے خلاف ٩ جماعتی قومی جمہوری اتحاد بنا جس میں سب شامل تھے۔

قاضی صاحب کی سوچ تھی کہ جماعت اسلامی کی انتھک قیادت کی محنت سے کافی لوگ اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانے کے لیے تیار ہو چکے ہیں۔لہٰذا اب ان کو استعمال کر کے اسلام دشمنوں سے فائنل رونڈ کھیلانا چاہیے۔ اسی لیے قاضی صاحب جماعت اسلامی کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے جماعت سے باہر لوگوں کے قابل عمل مشورے کو بھی جگہ دی۔اسی پالیسی کو آگے بڑھاتے ہوئے،قاضی صاحب نے شوریٰ کے مشورے سے جماعت میں عوامی روح پھوکنے کے ٣١٣ ساتھیوں کی معیت میں ” کاروان دعوت و محبت”کے ذریع پورے ملک میں ہلچل مچا دی۔١٩٩٠ء مینار پاکستان پر کل پاکستان اجتماع کر کے تسلسل کے کے ساتھ اجتماعات کرنے روایت تازہ کی۔
جماعت اسلامی میںمتفق کی اصطلاح کی جگہ ” ممبر” کے نام سے ممبر سازی کی ۔مظلوںکی داد رسی ، خدمت اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے جماعت اسلامی میں پبلک ایڈ کمیٹیوں کی بنیاد رکھی۔نوجوانوں کو متحرک کرنے کے لیے پاسبان بنائی۔ مگر یہ منصوبہ صحیح نہج پر نہ چل سکا۔پاکستان اسلامی فرنٹ کا تجربہ کیاگیا۔ جو نتائج نہ دے سکا۔ متحدہ مجلس عمل بنائی،جس میں کامیابی ہوئی۔صوبہ سرحد اور بلوچستان میں اس کے تحت حکومتیںبنیں ۔ مرکز میں اپوزیشن کی لیڈر شپ ملی۔ مولانا فضل الرحمان صاحب قائد حزب اختلاف بنے۔

پاکستان میں شیعہ سنی فساد کو ختم کرنے کے لیے ملی یکجہتی کونسل بنائی۔ ملک بھر میں عوامی کارواں، ریلیاں اور دھرنے منعقد کیے۔اس پر قاضی صاحب دھرنا بابا مشہور ہوئے۔بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی کو آگے برھانے کے لیے قاضی صاحب نے مختلف طریقوں سے جد و جہد کی۔ کسی میں ناکامی اور کسی میں کامیابی ہوئی ۔کیونکہ کامیابی اور ناکامی تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

قاضی صاحب پر مہمند ایجنسی کے دورے کے دوران ایک گاڑی میں نصب شدہ بم کو ریموٹ کنٹرول سے اُڑا کر شہید کرنے کی کوشش کی۔قاضی صاحب نے حملے کے بعد اخباری بیان میںاور ایک ٹی وی پرو گرام میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ان کو معلوم ہے کون لوگ حملہ کرنے والے ہیں۔اسے اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو قاضی صاحب کو راستے سے ہٹانے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایک پڑوسی مسلمان ملک افغانستان کی اسلامی شناخت ختم کرنے کے لیے اس پر حملہ کیا ۔ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کو مدد فراہم کی یا کر تے رہے ہیں۔ کچھ دانستہ اور اب کچھ نادانستہ… پاکستان کے عوام کو معلوم ہے کہ امریکا کے تھنک ٹینک اُنہیں بار بار مشورے دے چکے ہیں کہ کیمونزم کے بعد اُن

٢
کا مد مقابل اسلام ہے۔ پاکستان اور دنیا میںاس کی سرخیل مولانا مودودی کی برپاہ کردہ اسلام کی نشاة ثانیہ کی تحریک ہے۔ پاکستان میں ساری افراتفری کے پیچھے گریٹ گیم کاحصہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں پاکستان کی اسلامی شناخت ختم ہو، انتشار ہو، خانہ جنگی ہو، لاء اینڈ آڈر ہو، اقتصادیات کو تباہ کر دیا جائے، پاکستان ناکام ریاست ہو اور بلا آخر دنیا میں پروپیگنڈ
ا کر کے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کیا جائے یا اسے اقوام متحدہ کے کنٹرول میں دے دیاجائے۔ اُن کے ساتھ بھارت کے وہ لوگ شامل ہیں جن پر مسلمانوں کے آباواجداد نے ایک ہزار سال حکومت کی ہے۔جن کی آٹھ لاکھ فوج کو جماعت کی اسلامی کی پالیسیوں کی وجہ سے کشمیر میں پچھلے کئی سالوں سے مزاحمت کا سامنا ہے۔ان کا ساتھ یہودی ہیں جن کی نافرمانی کی وجہ سے رب کائنات،جہانوں کے رب نے انہیںدھتکار کے اور امامت چھین کر امت مسلمہ کو دی تھی۔ وہ اس ضد میںاللہ کے ہر کام کی مخالفت کر تے ہیں۔

انہوں نے اللہ کے مقابلے میں سود کا نظام قائم کیا۔ بے حیائی کا چلن عام کیا۔ لوگوںکا ناحق قتل کیا۔فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال کرفلسطینی عوام پر ظلم کی انتہا کر دی۔ سار ی مسلم دنیا میں بگاڑ کا سبب ہیں۔بھارت اور اسرائیل کی دہشت گردی کی کمانڈ امریکا کر تا رہا ہے اور کر رہا ہے۔۔پاکستان کے نادان حکمرانوں نے پچھلے٦٥ سال سے امریکا کو دوست بنایا ہوا ہے جبکہ وہ کبھی بھی پاکستان کا دوست نہ تھا اور نہ ہے ۔کوئی دوست ملک کسی دوست ملک کو کہہ سکتا ہے میری بات مانوں ورنہ، تمہیں پتھر کے دورمیں پہنچا دیا جائے گا؟ ایسا تو غلام لوگوں کو کہا جاتا ہے۔اللہ کا فرمان ہے یہود و نصارہ مسلمانوں کے دوست ہر گز نہیں ہو سکتے۔

اس لیے کہ امریکا کی چالوں کا توڑ کرنے کے لیے انہوں نے ملک سے امریکا کو نکا لنے کے لیے ”گو امریکا گو ” مہم شروع کی۔شیعہ سنی اتحاد کے خاتمے کے لیے ملی یکجہتی کونسل کو فعال کیا اور پاکستان کے تمام مکتبہ فکر کے لوگوں کو اکٹھا کیا اور صرف اکٹھا ہی نہیں کیا بلکہ ملی یکجہتی کونسل نے اتحاد و اتفاق کے لیے فی الواقعہ کام کرنا بھی شروع کر دیا۔جمعہ کے خطبات میں مسلمانوں میں اتحاد اتفاق کے علاوہ ملک دشمنوں کی پہچان کا پروگرام شروع کیا… اتحاد مسلمین کے لیے مسلم دنیا کے لیڈروں کو پاکستان میںجمع کیا… امریکی فرنٹ لین اتحاد ی اور امریکی جنگ سے پاکستان کو باہر نکانے کی سوچ کی رہبری کرتے رہے

…افغانستان کے طالبا ن جو اپنے ملک سے امریکی ناٹو فوجوں کو نکالنے کی جنگ کر رہے ہیں اس کو جائز سمجھتے ہیں…امریکا کے مقامی ایجنٹوں سے کش مکش کرتے ر ہے… ناٹو سپلائی کی پابندی کے بعد اس کی بحالی کی مخالفت مزاحمت کی تحریک کو لیڈ کیا…امریکی حمایت یافتہ این آر او زدہ پیپلز پارٹی کی حکومت کی ملک دشمن پالیسیوں کی مخالفت کرتے رہے… امریکا مخالف سیاسی جماعتوں کے ایک بڑے اتحاد کی پلائنگ کرتے رہے… ملک میں مدینے کی اسلامی فلاحی ریاست کے لیے لوگوں کو تیار کرتے رہے … اس تناظر میں آسانی سے پتہ لگ سکتا ہے کہ جمہوری طریقے سے جد و جہد کرنے والے قاضی صاحب کو راستے سے کون ہٹانا چاہتا تھا۔

١٩٦٧ء کی بات کہ قاضی صاحب کے میڈیکل اسٹور پشاور پر افغانستان کے مجائدین کا آنا شروع ہوا۔ پھر مولانا مودودی کی مشاورت اورہدایت کے بعد قاضی صا
حب نے افغانستان میں کیمونزم کی یلغار کو رکنے کے لیے پے در پے دورے کیے۔ یہ اسی کی برکت تھی کہ افغانستان میں روس کو شکست ہوئی۔قاضی صاحب نے کشمیریوں کی مدد میں دل جان سے کام کیا۔حریت کانفرنس کے لیڈروں سے ملاقاتیں کیں۔٥ فوری ١٩٩٠ء یوم یکجہتی کشمیر قاضی صاحب کی تجویز سے منانے کی ابتدا ہوئی جو آج تک جاری ہے۔ بو سینیا میں دکھی مسلمانوں کے ایک بہت بڑا پیکج لے پہنچے۔ چیچینیا کے صدرزیلم خان کو پورے پاکستان کے دورے کرائے ۔ پاکستانیوں سے چیچینیا کے لیے نقد امداد زیلم خان کے حوالے کی۔

دینی علماء اور سیاسی مخالفوں کا خود بھی احترام کرتے تھے اور کارکنوں کو بھی کی تلقین کرتے تھے۔ تمام مکتبہ فکر کے علماء سے قاضی صاحب کے قریبی تعلوقات تھے۔قاضی صاحب نے تبلیغی جماعت کے سالانہ اجتماح میں شرکت کی روایت ڈالی۔علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی قاضی صاحب کے قریبی ساتھی تھے۔ راولپنڈی کے دھرنے میں قاضی صاحب کے ساتھ استقامت کے ساتھ ڈٹے رہے۔قاضی صاحب، علامہ شاہ احمد صدیقی کے سالانہ عرس کے میں شرکت کرتے رہے۔ آئیڈیاز اور خیالات رکھنے والی شخصیت تھے۔انہوں نے ہی اسلامی آباد سے تقریباً ٥٠ کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک نیا شہر ”قرطبہ” کی بنیاد رکھی۔رات کو اللہ سے گھڑ گھڑا کر دعائیں کرنے والے، دن میں گھوڑوں پر سوار ہو کر اللہ کے دین کو قائم کرنے والے جن مومینین کا اللہ نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے۔ قاضی صاحب انہی صفات پر چلنے والے ایک مرد مومن تھے۔ اللہ اُن کی نیکیوں کو قبول کرے گنائوں کو معاف کرے آمین۔
Mir Afsar Aman

تحریر : میر افسر امان

Share this:
Lockdown
Previous Post کورونا وائرس، لاک ڈاﺅن اور وکلاء برداری
Next Post ضلع کورنگی کے چپے چپے کو سینی ٹائز کیا جائیگا، چیئرمین بلدیہ کورنگی کا اعلان
DMC Korangi Karachi

Related Posts

Two Infants Found Dead in Freezer in Eastern France, Mother Arrested

فرانس میں فریزر میں دو شیر خوار بچوں کی لاشیں برآمد، ماں گرفتار

February 12, 2026
Influencer Paola Locatelli Denounces Childhood Hypersexualization

انفلوئنسر پاؤلا لوکیٹیلی نے 14 سال کی عمر میں ہائپرسیکسولائزیشن کا پردہ فاش کر دیا

February 12, 2026
Hollywood Mourns James Van Der Beek, 'Dawson's Creek' Star Dies at 48

ہالی ووڈ کا ایک ستارہ بجھ گیا: ڈاوسن کریک کے جیمز وین ڈر بیک 48 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

February 12, 2026
Heavy Metals and Acrylamide Still Too High in French Diet

خوراک میں بھاری دھاتوں کا خطرہ: نئی تحقیق نے تشویش میں اضافہ کر دیا

February 12, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.