مصر کی سرحد پر واقع رفح کراسنگ پوائنٹ کے یکم فروری کو دوبارہ کھلنے کو غزہ کی پٹی میں انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزارنے والے فلسطینیوں کے مصائب کم کرنے کے طویل سفر میں اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم، زمینی حقائق اس سے کہیں مختلف ہیں۔ یہ محض ایک “جھولی” کی مانند کھلنا ہے، جس پر اسرائیل کا سخت کنٹرول قائم ہے۔
انسانی بحران سنگین، امداد محدود
اسرائیلی بمباری کے بعد غزہ کی صحت کی بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، جس کے باعث سینکڑوں فلسطینیوں کو فوری طور پر بیرون ملک علاج کی اشد ضرورت ہے۔ خوراک کی امداد، جو اب زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکی ہے، اب بھی اسرائیلی قبضہ طاقت کی مرضی پر منحصر ہے۔ گذشتہ کچھ دنوں میں اسرائیلی فورسز اور فلسطینی گروپوں کے درمیان جاری تصادم کے نتیجے میں 500 سے زائد فلسطینی ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔
ڈیووس میں پیش کردہ منصوبے: فلسطینیوں کو نظرانداز
جنوری میں عالمی اقتصادی فورم (ڈیووس) میں قائم کردہ “پیس کونسل” کے تحت غزہ کے لیے مستقبل کے جو منصوبے پیش کیے گئے، ان میں اس کڑوی حقیقت کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر کی جانب سے پیش کیے گئے ان منصوبوں میں فلسطینی عوام اور ان کے اپنے ریاست کے حق کو یکسر نظرانداز کیا گیا۔ یہ منصوبے درحقیقت 2025 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازعہ “غزہ رویئرا” منصوبے کے قریب ہیں۔
اسرائیلی حکومت کا موقف اور بین الاقوامی ردعمل
بنیامین نیتن یاہو کی حکومت نہ صرف دو ریاستی حل کی مخالفت کر رہی ہے بلکہ غزہ اور ویسٹ بینک دونوں جگہوں پر اسے ناممکن بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ایک طرف اسرائیل نے میڈیکنز سانز فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) جیسی غیر جانبدار انسانی اداروں پر غزہ میں کام کرنے پر پابندی عائد کر کے انسانی بحران سے بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا ہے۔ دوسری طرف، فرانس نے فلسطینیوں کو ہجرت کی سہولت دینے والے اپنے پروگرام کو معطل کر دیا ہے۔
امن عمل جامد، مستقبل غیر یقینی
7 اکتوبر کے واقعات کے بعد سے امن عمل عملاً جامد ہے۔ اگرچہ آخری اسرائیلی یرغمالی کی لاش کی واپسی کے بعد اسرائیلی فوج کے جزوی انخلاء اور فلسطینی اداروں کی بحالی کی بات کی جا رہی ہے، لیکن اس کے لیے درکار بین الاقوامی سلامتی فورس اور حماس کے غیر مسلح ہونے جیسے اقدامات پر عمل درآمد دور کی کڑی نظر آتا ہے۔ آٹھ مسلم ممالک پر مشتمل ممکنہ فورس نے یکم فروری کو اسرائیلی فورسز کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ اس غیر متوازن تنازعے میں صرف طاقتور فریق (اسرائیل) پر دباؤ ڈال کر ہی ٹرمپ کے منصوبے جیسے خوابوں کو مکمل ناکامی سے بچایا جا سکتا ہے۔ فی الحال، بین الاقوامی برادری کی بے حسی اور اسرائیل کے سخت کنٹرول کے درمیان غزہ کے عوام کی امداد اور ان کے سیاسی حقوق دونوں داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔

