بینکاری شرح میں ہفتہ بھر محدود حرکت
کراچی: مالیاتی پلیٹ فارم ٹریسمارک کی ایک رپورٹ کے مطابق، رمضان المبارک اور عید الفطر کے موقع پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بڑھنے والی ترسیلات زر کی وجہ سے پاکستانی روپے میں قریب المدت استحکام برقرار رہنے اور قدر میں معمولی بہتری کی توقع ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان موسمی ترسیلات کی وجہ سے روپے کی طلب میں اضافہ ہوگا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا آغاز
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ٹیم نے پاکستانی حکام کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے توسیعی مالی سہولت پروگرام کی تیسری جائزہ رپورٹ اور 1.1 ارب ڈالر کے لچک اور استحکام سہولت کے دوسرے جائزے کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔ ان مذاکرات کی کامیاب تکمیل پر پاکستان اپریل کے آخر تک تقریباً 1 ارب ڈالر کی ادائیگی کا اہل ہو جائے گا۔
روپے کی کارکردگی اور چیلنجز
ٹریسمارک کے مطابق، سال کے آغاز سے اب تک روپے میں تقریباً 60 پیسے کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ خطے میں بڑھتے ہوئی جیو پولیٹیکل خطرات، مغربی سرحد پر کشیدگی، برآمدات میں کمی، تجارتی خسارے میں اضافہ اور مہنگائی کے دباؤ جیسے متعدد چیلنجز کے باوجود ہوا ہے۔
ترسیلات زر کے اعداد و شمار
پاکستان کو جنوری میں ترسیلات زر میں گزشتہ سال کی نسبت 15.4 فیصد اضافے کے ساتھ 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے۔ مالی سال 2026 کے پہلے سات مہینوں میں یہ ترسیلات 11.3 فیصد بڑھ کر 23.2 ارب ڈالر ہو گئی ہیں، تاہم جنوری میں یہ دسمبر کے مقابلے میں 4 فیصد کم رہیں۔
برآمد کنندگان کے لیے مشورہ
رپورٹ میں برآمد کنندگان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر لاگت پر کنٹرول ہے تو انہیں فارورڈ کورٹریکٹس کا انتخاب کرنا چاہیے، کیونکہ روپے کے مستقبل کے حوالے سے نقطہ نظر مستحکم سے قدرے مضبوط ہے۔
دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ساتھ موازنہ
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ روپے کا استحکام منفرد نہیں ہے۔ مصری پاؤنڈ، تھائی باتھ، جنوبی افریقی رانڈ، برازیلی ریئل، میکسیکن پیسو اور انڈونیشین روپئہ جیسی دیگر ابھرتی ہوئی منڈیوں کی کرنسیوں نے بھی جیو پولیٹیکل عدم استحکام کے باوجود اپنی مضبوطی برقرار رکھی ہے۔
