مارنے کے علاقے کے شہر ایپرنی میں واقع ایک مشہور ریسٹورنٹ ‘دی یوریشین’ حال ہی میں اپنی قیمتوں کی وجہ سے سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا شکار ہوا۔ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب ایک صارف نے 25 اگست کو فیس بک پر ایک پوسٹ کے ذریعے ریسٹورنٹ کی قیمتوں کو “غیرمعمولی” قرار دیا۔
اس پوسٹ میں صارف نے بتایا کہ اس نے ایک چھوٹی بیئر، کوکاکولا اور پیزا کا آرڈر دیا تھا جس کی مجموعی قیمت 43.50 یورو تھی۔ صارف کے مطابق کوکاکولا کی بوتل کی قیمت 7 یورو تھی، جبکہ پیزا کی قیمت 21 یورو تھی۔ اس صارف کا اعتراض خاص طور پر 6 یورو کی قیمت پر تھا جو پیزا کو اپنی بیٹی کے ساتھ بانٹنے کے سبب لگایا گیا تھا۔
پوسٹ کے بعد ریسٹورنٹ پر تنقید کی برسات ہوگئی، اور مقامی شہریوں نے بھی غیرمعقول قیمتوں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، “ایسی مہنگی قیمتوں کے باعث لوگ ریسٹورنٹ میں آنا چھوڑ دیں گے۔”
ریسٹورنٹ کے مالک جین مارک نے اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ ان کی قیمتیں اعلیٰ معیار اور منفرد مصنوعات کی وجہ سے زیادہ ہیں۔ کوکاکولا کی قیمت کو لے کر انہوں نے کہا کہ یہ انتہا پسندی ہے تاکہ صارفین کا رجحان مقامی جوس یا وائن کی طرف ہو۔
قیمتوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ مقامی مصنوعات کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور اسی وجہ سے قیمتیں زیادہ ہیں۔ “ہمارا مقصد صارفین کو معیاری مصنوعات فراہم کرنا ہے، اور ہم اپنے معیار پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے،” جین مارک کا کہنا تھا۔
اس دوران، کچھ صارفین نے ریسٹورنٹ کی ان قیمتوں کو قانونی طور پر چیلنج کرنے کا بھی اشارہ دیا۔ لیکن ریسٹورنٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فرانس میں یہ قانونی ہے کہ اگر اضافی افراد کی وجہ سے جگہ گھیرنے کی صورت میں ‘کوورٹس’ چارجز وصول کیے جائیں۔
یہ تنازعہ ابھی بھی جاری ہے، لیکن ریسٹورنٹ کے مالکان کو امید ہے کہ ان کے وضاحت کے بعد حالات بہتر ہوجائیں گے۔ اسی اثنا میں، ان کی مستقل صارفین کی مدد اور حمایت جاری ہے۔
