جنگ کے 1382ویں دن کا اہم واقعہ
روسی حکومت نے اتوار کے روز امریکہ کی نئی قومی سلامتی کی حکمت عملی کا خیرمقدم کیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قوم پرستانہ سوچ سے ہم آہنگ یہ پالیسی “بڑے پیمانے پر” ماسکو کے نقطہ نظر سے مطابقت رکھتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ واشنگٹن کی یہ نئی حکمت عملی روس کے لیے یوکرین میں “پرامن حل تلاش کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ مشترکہ کام جاری رکھنے” کا راستہ ہموار کرے گی۔
ہفتہ بھر کا اہم عدد: 2800
یوکرین کے صدر وولوڈیمیر زیلنسکی کے مطابق روس نے گزشتہ ہفتے یوکرین پر 2800 سے زائد ڈرونز اور میزائل داغے۔ صدر زیلنسکی نے ایک پوسٹ میں تفصیل دی کہ ان میں “1600 سے زیادہ حملہ آور ڈرونز، تقریباً 1200 ہدایت شدہ فضائی بم اور قریب 70 مختلف اقسام کے میزائل” شامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ حملے بنیادی طور پر “روزمرہ زندگی چلانے والی بنیادی ڈھانچے کی سہولیات” کو نشانہ بنا رہے تھے۔
اتوار کو بھی حملے جاری رہے، جس میں ملک بھر میں 240 سے زیادہ ڈرونز اور 5 بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس سے کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں اور متعدد علاقوں میں “شدید نقصان” ہوا ہے۔
اوسے کی صلح میں ممکنہ کردار
سوئٹزرلینڈ کے وزیر خارجہ اگنازیو کیسس نے اتوار کو تجویز پیش کی کہ سلامتی اور تعاون کے لیے یورپی تنظیم (اوسے) روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کی نگرانی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اس سلسلے میں پہلے ہی ٹھوس غور و خوض موجود ہے: تنظیم بہت کم وقت میں درجنوں افراد تعینات کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔”
انہوں نے وضاحت کی کہ اوسے جنگ بندی کی نگرانی، جنگ بندی لائن کی نگرانی، انتخابات کی نگرانی وغیرہ کا کام کر سکتی ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ “محاذ جنگ فی الحال 1300 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے – صرف اوسے اس پوری لمبائی کی نگرانی کے لیے بہت چھوٹی ہے۔ اس کے لیے شرکت کرنے والے ممالک کی طرف سے بڑے پیمانے پر وابستگی کی ضرورت ہوگی۔”
یاد رہے کہ سوئٹزرلینڈ 2026 میں اوسے کی صدارت سنبھالے گا۔ یہ تنظیم 1975 میں سرد جنگ کے دوران مشرق اور مغرب کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی اور اس کے 57 رکن ممالک ہیں۔
