geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
April 20, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • 83% of French Parents Report Verbally Abusing Their Childrenفرانس میں والدین کی بڑی تعداد بچوں کے ساتھ تشدد کا اعتراف، نئی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات
    • Why Turkey Eggs Are Rarely on Our Platesکیا آپ نے کبھی ترکی کے انڈے کھائے ہیں؟ غذائیت سے بھرپور مگر بازار میں نایاب
    • Crushed Empress Eugénie's Crown Revealed After Louvre Heistلوور میوزیم نے شہنشاہ نگار کے تاریخی تاج کی تباہ حال تصاویر جاری کردیں
    صحت و تندرستی
    • France Launches Spring COVID-19 Booster Campaign for Most Vulnerableفرانس میں موسم بہار کے لیے نئی کورونا ویکسینیشن مہم کا آغاز، بوڑھوں اور کمزور افراد کو ترجیح
    • Pakistan's HIV Crisis: Unsafe Injections Fuel 500% Death Surgeانجیکشن کلچر اور ناقص نفاذ نے پاکستان میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو ہوا دی
    • The Japanese "Point and Call" Method to Boost Memoryجاپانی طریقہ ‘شیزا کانکو’: انگلی سے اشارہ کرکے بات کہنے سے یادداشت اور توجہ میں حیرت انگیز بہتری
    دلچسپ اور عجیب
    • Humanoid Robots Shatter World Record in Half-Marathonانسانی روبوٹس نے نصف میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، چین میں انقلابی پیشرفت
    • Train Travel's Hidden Benefit: Stress Relief Through Sceneryٹرین کے سفر میں مناظر کو دیکھنا ذہنی صحت کے لیے مفید، نئی تحقیق میں انکشاف
    • 83% of French Parents Report Verbally Abusing Their Childrenفرانس میں والدین کی بڑی تعداد بچوں کے ساتھ تشدد کا اعتراف، نئی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Elon Musk Summoned by French Justice in X Investigationایلون مسک: فرانسیسی عدالت کے سامنے پیشی کا نوٹس اور ایکس کے خلاف تحقیقات
    • Humanoid Robots Shatter World Record in Half-Marathonانسانی روبوٹس نے نصف میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، چین میں انقلابی پیشرفت
    • EU's Age Verification App "Technically Ready" to Block Minorsیورپی یونین کا عمر کی تصدیق کرنے والا ایپ تیار، پندرہ سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا سے روکنے کی تیاری
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

سکیورٹی فورسز کی کشمیری عسکریت پسندوں کے والدین سے رابطہ مہم

September 1, 2021 0 1 min read
Security forces
Share this:

Security forces

کشمیر (اصل میڈیا ڈیسک) بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اعلیٰ فوجی حکام نے عسکریت پسندوں کے والدین سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ مبصرین اسے بھارتی حکومت کی پبلک ریلیشنز کی ایک کوشش کا نام دے رہے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ملکی فوج نے پہلی بار سرگرم عسکریت پسندوں کے والدین کے ساتھ رابطوں کی انوکھی مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس سلسلے میں 31 اگست منگل کے روز پہلی بار جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں فوج اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے وادی میں فعال عسکریت پسندوں کے درجنوں اہل خانہ سے ملاقات کی۔

بھارتی حکومت اور فوج کشمیر میں شدت پسندوں کے حوالے سے بہت سخت رویہ رکھتی ہیں اور عمومی بیانات میں زور اس بات پر دیا جاتا ہے کہ دہشت گردی کو کسی بھی حال میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو بھارتی فورسز کی جانب سے حالیہ برسوں کے دوران یہ بظاہر ایک نئی حکمت عملی محسوس ہوتی ہے۔

بھارتی عسکری حکام نے شوپیاں میں جن اسّی خاندانوں کو جمع کیا تھا، ان سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گيا کہ وہ اپنے ارکان کو عسکریت پسندی ترک کرنے اور سماج کے اصل دھارے میں ’دوبارہ شامل کرنے کے لیے ان کی رہنمائی کریں‘۔

کشمیر میں بھارتی فوج کی قیادت کرنے والے دستوں کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے، میجر جنرل رشیم بالی اور انسپکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار جیسے کئی سینیئر افسروں نے شوپیاں کے اس اجتماع میں کشمیر میں سرگرم عسکریت پسندوں کے والدین سے تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر خطے کے فوجی سربراہ نے شرکاء سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ سرگرم عسکریت پسندوں کے والدین سے ان کی براہ راست بات ہو، ’’تاکہ میں آپ سے گزارش کر سکوں کہ آپ اپنے بچوں کو اس سے باہر نکالیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا، ’’خاموشی سے انہیں باہر نکالیں، مجھے نہیں معلوم، یہ آپ پر منحصر ہے۔ لیکن آپریشن کے دوران اگر کوئی لڑکا ہتھیار ڈالتا ہے، تو ہم وہ گولی اور زخم کھانے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن آپ اپنے بچوں کو بچا سکتے ہیں۔ یہ میرا آپ سے وعدہ ہے۔ باقی فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں یہ پہلا موقع ہے کہ فوج اور پولیس کے اعلیٰ افسران نے اس بارے میں عسکریت پسندوں کے اہل خانہ سے براہ راست بات کی ہو۔ اطلاعات کے مطابق جن خاندانوں نے اس اجتماع میں شرکت کی، ان میں سے بیشتر کا تعلق جنوبی کشمیر سے تھا کیونکہ فی الوقت جنوبی اضلاع اننت ناگ، شوپیاں، پلوامہ اور کلگام میں عسکریت پسندی کا زور زیادہ ہے۔

اس حوالے سے بھارتی وزارت دفاع نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اس تبادلہ خیال کا مقصد عسکریت پسندوں کے اہل خانہ میں فوج کے مقاصد کو اجاگر کرنا تھا۔

بیان کے مطابق، ’’معاشرتی اور خاندانی مدد مردوں کو تشدد اور موت کے راستے سے دور کر سکتی ہے۔ سکیورٹی فورسز ’غیر مسلح دہشت گردوں‘ پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں، جو دہشت گردانہ سرگرمیوں کے پس منظر میں ہوتے ہیں۔ اہم مقصد تشدد کے دائرے کو توڑنا ہے۔‘‘

عام طور پر کشمیر میں بھارتی فوج کا رویہ بہت سخت رہا ہے۔ لیکن اچانک اس میں نرمی اور تبدیلی کیوں آئی؟ سری نگر کے سینیئر صحافی الطاف حسین کہتے ہیں کہ بھارتی حکومت عالمی برادری کو دکھانے کے لیے یہ سب کچھ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں ”شدت پسندی کے چیلنج کے حوالے سے بھارتی حکومت اور سکیورٹی ایجنسیاں جتنا جھوٹ بولتی ہیں، اتنا جھوٹ میں نے کبھی نہیں سنا۔‘‘

الطاف حسین کے مطابق کشمیر میں اس وقت جو بھی عسکریت پسندی کا راستہ اختیار کرتا ہے، وہ بہت سوچ سمجھ کر جاتا ہے اور اب یہ کوئی فیشن نہیں رہا۔ ”اب حالات بدل چکے ہیں، عسکریت پسند اپنے ماں باپ کی نہیں سنتے۔ اگر سنتے، تو وہ پہلے ہی واپس آ چکے ہوتے۔ تو پھر فوج کے کہنے پر وہ کیسے مان جائیں گے؟‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ”بھارتی حکومت کی یہ ایک پبلک ریلیشنز کی کوشش ہے۔ اگر ایک فیصد بھی فائدہ ہو، تو بھی ٹھیک۔ ورنہ ان کا کیا جاتا ہے؟ لیکن لوگوں کو دکھایا تو جا ہی سکتا ہے۔ کشمیر میں اعتماد سازی اور تشدد کے خاتمے کے لیے سیاسی عمل شروع کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

الطاف حسین کے مطابق کشمیر پر اس وقت فوج کا مکمل کنٹرول ہے۔ تاہم مسئلہ کشمیر کوئی سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ”اصل مسئلہ بھارت سے بیزار ہونے اور ناراضگی کا ہے۔ تو اس کے حل کے لیے سیاسی عمل شروع کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

Share this:
GAFA
Previous Post بڑی ڈیجیٹیل کمپنیوں کے لابی ساز، یورپی یونین سے کیا چاہتے ہیں؟
Next Post بائیڈن نے اشرف غنی سے آخری بات چیت میں کیا مشورہ دیا تھا؟
Ashraf Ghani and Joe Biden

Related Posts

Paris Fire: 50 Firefighters Battle Blaze in 3rd Arrondissement

پیرس میں رہائشی عمارت میں آگ، دو افراد زخمی

April 20, 2026
US Navy Seizes Iranian Cargo Ship in Gulf of Oman Confrontation

خلیج عمان میں امریکی بحریہ کا ایرانی کارگو جہاز قبضے میں لینے کا واقعہ، ایران نے جوابی کارروائی کا اعلان کر دیا

April 20, 2026
France Launches Spring COVID-19 Booster Campaign for Most Vulnerable

فرانس میں موسم بہار کے لیے نئی کورونا ویکسینیشن مہم کا آغاز، بوڑھوں اور کمزور افراد کو ترجیح

April 20, 2026
Elon Musk Summoned by French Justice in X Investigation

ایلون مسک: فرانسیسی عدالت کے سامنے پیشی کا نوٹس اور ایکس کے خلاف تحقیقات

April 20, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.