سیول کا زبردست ریباؤنڈ
بدھ کو سیول کی اسٹاک مارکیٹ نے گزشتہ روز کی زبردست مندی کے بعد واپسی کی راہ پکڑ لی، جس کی بڑی وجہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں غیر معمولی تیزی تھی۔ کوسپی انڈیکس، جو منگل کو 10 فیصد کی تاریخی گراوٹ کا شکار ہوا تھا، 3.26 فیصد اضافے کے ساتھ 8,471 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ اس بحالی میں سب سے آگے میموری چپ بنانے والی کمپنیاں سام سنگ اور ایس کے ہائنکس رہیں، جن کے حصص میں بالترتیب 6.12 فیصد اور 3.05 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ واضح رہے کہ منگل کو ان دونوں کمپنیوں کے حصص تقریباً 12 فیصد ڈوب گئے تھے۔
سرمایہ کاروں کی حکمت عملی
ماہرین کے مطابق، سیول کی مارکیٹ میں یہ تیزی موقع پرست سرمایہ کاروں کی وجہ سے آئی ہے جو معمولی سی گراوٹ پر بھی خریداری کے خواہاں ہیں۔ وینٹیج بروکر سے وابستہ تجزیہ کار ہیبے چن کا کہنا ہے کہ “سیول میں آج کا ریباؤنڈ جنوبی کوریا کی گھریلو مارکیٹ کی لچک کو ظاہر کرتا ہے، جسے ٹیکنالوجی کے شعبے میں مسلسل اضافے پر شرط لگانے والے موقع پرست سرمایہ کاروں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔” تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ “عالمی ٹیک سیکٹر کی تیزی کی رفتار میں پہلی دراڑیں نمودار ہو چکی ہیں”، جس سے سیول کی مارکیٹ مزید غیر یقینی اور شعبے سے متعلق خبروں پر زیادہ حساس ہو سکتی ہے۔
ٹوکیو کی کمزور استحکام
دوسری جانب، ٹوکیو کی اسٹاک مارکیٹ میں صورتحال کمزور رہی۔ منگل کو 3 فیصد سے زائد کی کمی کے بعد، نکئی انڈیکس معمولی سے مستحکم ہوا اور 0.15 فیصد کی معمولی کمی کے ساتھ 69,664 پوائنٹس پر بند ہوا۔ توکائی ٹوکیو انٹیلیجنس کے ماہرین کے مطابق، “نکئی انڈیکس اپنی تاریخی بلندیوں کے قریب ہے، جس سے سیمی کنڈکٹر سے وابستہ حصص پر فروخت کا دباؤ بڑھے گا، جنہوں نے اب تک زبردست منافع کمایا ہے”، اور اس طرح وہ منافع کی وصولی کے لیے فروخت کی زد میں ہیں۔
ین پر بڑھتا ہوا دباؤ
جاپانی کرنسی ین پر دباؤ بدستور برقرار ہے۔ ہفتے کے آغاز میں ین 161.93 فی ڈالر کی سطح پر آ گیا تھا، جو 161.95 کی سطح کے قریب ہے اور دسمبر 1986 کے بعد سب سے کم ترین سطح ہے۔ بدھ کو ین 161.54 فی ڈالر پر مستحکم رہا، لیکن یہ سکون عارضی ہے۔ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ “ین کی حالیہ گراوٹ کی وجہ یہ خدشہ ہے کہ بینک آف جاپان افراط زر کو قابو کرنے کے لیے شرح سود میں اتنی تیزی سے اضافہ نہیں کرے گا۔ تیل کی بڑھتی قیمتیں بھی جاپان کی درآمدات کے بل میں اضافہ کر کے کرنسی پر دباؤ ڈال رہییں۔”
ڈالر کی مضبوطی اور فیڈ کا کردار
ین کی حالیہ کمزوری ڈالر کی مضبوطی سے مزید بڑھی ہے، کیونکہ گزشتہ ہفتے امریکی فیڈرل ریزرو (Fed) کی مانیٹری پالیسی میٹنگ کے بعد شرح سود میں ممکنہ اضافے کے امکانات واضح ہو رہے ہیں۔ جاپان اور امریکہ کے مرکزی بینکوں کی شرح سود کے درمیان فرق ڈالر کو تقویت دیتا ہے اور ین پر دباؤ بڑھاتا ہے، کیونکہ ین میں سرمایہ کاری نسبتاً کم منافع بخش ہو جاتی ہے۔ ان حالات نے ٹوکیو کی جانب سے کرنسی مارکیٹ میں نئی مداخلت کے قیاس آرائیوں کو ہوا دے دی ہے۔ جاپانی حکومت مئی میں ین کو سہارا دینے کے لیے تقریباً 11,700 ارب ین (63 ارب یورو) خرچ کر چکی ہے، جس کا اثر بہت عارضی ثابت ہوا۔
تیل اور سونے کی قیمتوں میں کمی
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بدھ کو بھی کمی کا سلسلہ جاری رہا۔ آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمدورفت میں اضافے کی خبروں سے مارکیٹ کو سہارا ملا، لیکن واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے ملے جلے اشارے سرمایہ کاروں کو محتاط رکھے ہوئے ہیں۔ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 0.68 فیصد کمی سے 72.71 ڈالر فی بیرل اور برینٹ خام تیل 0.65 فیصد کمی سے 76.58 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔ دوسری جانب، سونے کی قیمت میں بھی 1 فیصد کمی آئی اور یہ 4,075 ڈالر فی اونس پر آ گیا، کیونکہ ڈالر کی مضبوطی اور حقیقی منافع کی بڑھتی شرحیں اس غیر منافع بخش اثاثے پر وزن ڈال رہی ہیں۔
