اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو شدید رنج اور غم سے دوچار کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ ہم حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف حالیہ افسوسناک حملوں کی ایک بار پھر شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
حرمین شریفین کی سلامتی ’سرخ لکیر‘ ہے
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ حرمین شریفین کے امن، سلامتی اور تقدس کے لیے کسی بھی قسم کا خطرہ ایک سرخ لکیر ہے جسے کسی بھی صورت میں عبور نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مسلمان ایسے مکروہ فعل کے ارتکاب کا تصور بھی نہیں کر سکتا، اور اس حوالے سے مقدس مقامات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار
وزیراعظم نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حالیہ ’قابل مذمت حملوں‘ کی مذمت کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ پاکستان سعودی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسیویں اجلاس سے خطاب کو بھی یاد دلایا، جہاں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کی حمایت اور خطے میں امن کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔
مکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ
وزیراعظم نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان پر مشتمل تاریخی ’مشترکہ مکہ دفاعی معاہدے‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد کسی بھی ریاست کے خلاف نہیں ہے۔
ان کے مطابق یہ معاہدہ دفاع، علاقائی استحکام اور امن کے لیے ایک اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
- وزیراعظم نے مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے باعثِ رنج قرار دیا۔
- حرمین شریفین کے تقدس کو سرخ لکیر قرار دیتے ہوئے کسی بھی خطرے کو ناقابلِ قبول کہا۔
- سعودی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا۔
- مشترکہ مکہ دفاعی معاہدے کو دفاع اور علاقائی امن کا اجتماعی عزم قرار دیا۔
