پیرس: گاڑیوں کے معروف صنعتکار اسٹیلانٹِس نے فرانس میں اپنی 68,000 گاڑیوں کو میکینیکل خرابی کے باعث واپس منگوا لیا ہے۔ یہ خرابی ان کی پیور ٹیک انجن کے آئل جیٹ کولنگ نوزلز میں پائی گئی ہے۔ متاثرہ ماڈلز میں 57,000 سِترون سی تھری، 2,500 پیجو 208 اور 8,700 اوپل کورسا شامل ہیں، جن میں 1.2 پیور ٹیک انجن لگا ہے جو 82 ہارس پاور پیدا کرتا ہے۔
یہ اعلان 25 فروری کو کیا گیا، جس سے پہلے میڈیا رپورٹس میں اس مسئلے کا ذکر کیا گیا تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ انجن کے ڈیزائن سے نہیں بلکہ سپلائر کی مینوفیکچرنگ کوالٹی میں کمی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اسٹیلانٹِس، جو پہلے ہی خراب ایئر بیگز کے باعث بڑے پیمانے پر گاڑیاں واپس منگوا رہا ہے، نے وضاحت کی کہ یہ خرابی شور پیدا کر سکتی ہے اور شدید صورتوں میں انجن کے سینسر کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل ایگزاسٹ پر پھیل سکتا ہے اور دھویں یا آگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ آیا ابھی تک کوئی ایسا واقعہ پیش آیا ہے یا نہیں۔ متاثرہ کسٹمرز کو ایک رجسٹرڈ خط کے ذریعے مطلع کیا جائے گا کہ وہ اپنی گاڑیاں ڈیلرشپ پر لے جائیں تاکہ آئل اور آئل فلٹر کی تبدیلی کی جا سکے۔ اسٹیلانٹِس نے یقین دلایا کہ یہ عمل، جو تقریباً 30 منٹ میں مکمل ہوتا ہے، مسئلہ کو مؤثر طریقے سے حل کرتا ہے۔
یہ تازہ ترین واپسی پیور ٹیک انجنز کے سلسلے میں پیش آنے والے چیلنجز کے بعد کی گئی ہے، جو ابتدائی طور پر پی ایس اے (پیجو-سِترون) نے اسٹیلانٹِس کی تشکیل سے قبل تیار کیے تھے۔ ان چیلنجز میں اضافی تیل کا استعمال اور ٹائمنگ بیلٹ کی قبل از وقت خرابی شامل ہیں۔ جنوری میں، اسٹیلانٹِس نے ایک ریٹرو ایکٹیو کمپنسیشن پلیٹ فارم متعارف کرایا تھا تاکہ 2022 سے 2024 کے درمیان ان انجنوں کے مسائل کا سامنا کرنے والے کسٹمرز کو معاوضہ دیا جا سکے۔
