فرانسیسی اسٹریمرز کی حراست، الزامات میں معذور افراد کے ساتھ بدسلوکی بھی شامل
نیس، فرانس۔ سٹریمنگ پلیٹ فارم ’کِک‘ پر اپنے ہی گھر میں براہ راست انتقال کرنے والے اسٹریمر ژاں پورمانوو کے دو ساتھی سٹریمرز کو بدھ کے روز حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایک الگ تحقیقاتی مقدمے کے تحت ہوئی ہے جو پورمانوو کی موت سے پہلے شروع کیا گیا تھا۔
الزامات کی نوعیت
نیس کے پراسیکیوٹر ڈیمیئن مارٹینیلی کے مطابق، اوون سینازینڈوٹی اور سفین حمادی، جو اپنے آن لائن ناموں ’ناروٹو‘ اور ’سفین‘ سے مشہور ہیں، پر متعدد سنگین الزامات عائد ہیں۔ ان میں ’اجتماعی تشدد‘، ’پندرہ سال سے کم عمر کے بچے پر تشدد‘، ’کمزوری کا فائدہ اٹھانا‘، اور ’معذوری اور جنسی رجحان کی بنیاد پر نفرت اور امتیاز کی ترغیب‘ جیسے الزامات شامل ہیں۔
ژاں پورمانوو کی موت سے تعلق نہیں
قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ تحقیقات اور حراست اسٹریمر ژاں پورمانوو کی اگست 2024 میں براہ راست سٹریم پر موت کے مقدمے سے الگ ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق پورمانوو کی موت میں کسی تیسرے فریق کا ہاتھ نہیں تھا۔ موجودہ تحقیقات دراصل دسمبر 2024 میں شروع ہوئی تھی، جب میڈیا پارٹ نامی ویب سائٹ نے ایسے براہ راست سٹریمز کی نشاندہی کی تھی جن میں پورمانوو اور ایک دیگر معذور شخص کو ذلیل کیا جا رہا تھا۔
ماضی میں بھی ہوئی تھی حراست
یہ دونوں افراد جنوری 2025 میں بھی اسی مقدمے کے تحت حراست میں لیے گئے تھے، لیکن بعد میں رہا کر دیے گئے تھے۔ اس وقت، پورمانوو سمیت متاثرین نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تمام مناظر صرف شہرت اور پیسے کمانے کے لیے اسٹیج کیے گئے تھے۔ تاہم، اب تحقیقاتی کارروائی دوبارہ شروع کی گئی ہے اور نئے ثبوتوں کی روشنی میں انہیں دوبارہ حراست میں لیا گیا ہے۔
قانونی صورت حال
پراسیکیوٹر کے مطابق، یہ حراست دراصل پچھلے سال شروع ہونے والی تحقیقات کا تسلسل ہے۔ حراست کی قانونی مدت 48 گھنٹے ہے، جس میں سے جنوری 2025 میں گزارا گیا وقت بھی منہا کیا جائے گا۔ تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ آیا تشدد کی ویڈیوز ریکارڈ کر کے نشر کی گئی تھیں۔
یہ واقعہ آن لائن سٹریمنگ کمیونٹی اور پلیٹ فارمز کی ذمہ داریوں پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے، جہاں تشدد اور امتیازی مواد کبھی کبھار ’تفریح‘ کے نام پر پیش کیا جاتا ہے۔

