نیویارک: امریکی اداکارہ سوسن سیرنڈن ان سو سے زائد افراد میں شامل تھیں جنہیں جمعرات کو نیویارک پولیس نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف احتجاج کے دوران گرفتار کیا۔ یہ احتجاج تنظیم “جیوش وائس فار پیس” کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا، جس کا مقصد اسرائیل کو امریکی فوجی امداد کے خاتمے کا مطالبہ کرنا تھا۔
اقوام متحدہ کے باہر بڑے پیمانے پر احتجاج
یہ احتجاج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے باہر اس وقت ہوا جب بنجمن نیتن یاہو وہاں خطاب کرنے والے تھے۔ جیوش وائس فار پیس کے مطابق اس احتجاج میں چار سو سے زائد افراد نے شرکت کی اور اقوام متحدہ کے سامنے دھرنا دیا۔ تنظیم نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ان کا مطالبہ نسل کشی کے خاتمے اور اسرائیل کو امریکی فوجی امداد بند کرنے کا ہے۔
تنظیم نے مزید کہا: “ہم اس وقت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ نہیں سکتے جب جنگی مجرموں کو تقریر کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کیا جا رہا ہو اور ہماری حکومت جنگ پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہو۔”
پولیس کا مؤقف
نیویارک پولیس کے ترجمان کے مطابق پولیس نے ایک “غیر اعلان شدہ احتجاج” پر کارروائی کی جو ایک چوراہے کو بلاک کر رہا تھا۔ ترجمان نے بتایا کہ پولیس نے مظاہرین سے راستہ چھوڑنے کو کہا لیکن وہ باز نہیں آئے، جس کے بعد متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
جیوش وائس فار پیس نے دعویٰ کیا کہ سو سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، تاہم پولیس نے گرفتار افراد کی تعداد کے بارے میں کوئی تصدیق نہیں کی۔
دیگر مشہور شخصیات کی شرکت
سوسن سیرنڈن کے علاوہ دیگر مشہور شخصیات نے بھی اس احتجاج میں حصہ لیا۔ “سیکس اینڈ دی سٹی” کی اداکارہ سنتھیا نکسن بھی اس اجتماع میں موجود تھیں۔ نیویارک پوسٹ کے مطابق “ہیکس” سیریز کی اداکارہ ہننا آئن بنڈر کو بھی دھرنے سے ہٹایا گیا۔
مظاہرین کے ہاتھوں میں “اسرائیل کو ہتھیار بند کرو” اور “نسل کشی ختم کرو” کے پلے کارڈ تھے۔
ہننا آئن بنڈر کا بیان
ہننا آئن بنڈر نے اپنی گرفتاری کے بعد انسٹاگرام پر ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے لکھا: “اگر میری اور میرے دوستوں کی گرفتاری کی تصاویر کسی چیز کی طرف توجہ دلائیں تو وہ اسرائیل کی طرف سے فلسطین اور جنوبی لبنان کے عوام کے خلاف چلائی جانے والی تباہ کن نسل کشی جنگ ہونی چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ یہ جرائم ہر روز ہو رہے ہیں لیکن بین الاقوامی میڈیا میں ان کی تقریباً کوئی کوریج نہیں ہوتی۔ انہوں نے امریکی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ “غزہ کے قصائی” کا کھلے دل سے استقبال کر رہی ہے اور یہ ناقابل قبول ہے کہ بنجمن نیتن یاہو امریکی شہروں میں آزادانہ گھوم سکیں۔
اداکارہ نے اپنے فالورز سے غزہ میں انسانی امدادی تنظیم “پال ہیومینٹی” کو عطیات دینے کی اپیل بھی کی اور کہا: “ہمیں شو اور حقیقت میں فرق نہیں کرنا چاہیے۔ نسل کشی کو سرخیوں میں ہونا چاہیے اور اب اسے ختم ہونا چاہیے۔”
سوسن سیرنڈن کی سرگرمی
سوسن سیرنڈن، جو “تھیلما اینڈ لویز” اور “دی راکی ہارر پکچر شو” جیسی فلموں کے لیے مشہور ہیں، غزہ میں اسرائیلی جنگ کے خلاف احتجاج میں باقاعدگی سے شرکت کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں انکشاف کیا تھا کہ ان کے سیاسی موقف کی وجہ سے انہیں کئی کاموں سے محروم ہونا پڑا ہے۔
