پیرس: فرانسیسی وزیر داخلہ برونو ریتایو نے اعلان کیا ہے کہ ایک 17 سالہ نوجوان کو جمعہ کے روز سارتھ میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ نوجوان مبینہ طور پر داعش کے نام پر حملے کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔
برونو ریتایو نے ٹیلی ویژن چینل ایل سی آئی پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نوجوان کی منصوبہ بندی میں مذہبی مقامات، خاص طور پر یہودی عبادت گاہیں، سیکس شاپس اور تفریحی مقامات شامل تھے۔ وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ فرانس کی داخلی سیکیورٹی ایجنسی ڈی جی ایس آئی نے نوجوان کی مشکوک سرگرمیوں کا پتہ لگایا اور بروقت کارروائی کر کے اسے گرفتار کیا۔
وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ نوجوان ابھی تک حملے کی مکمل منصوبہ بندی نہیں کر سکا تھا لیکن وہ تیاریوں میں مصروف تھا۔ اس واقعے کے بعد قومی دہشت گردی کے خلاف پراسیکیوشن محکمہ کو کیس کی تفتیش کے لیے ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
برونو ریتایو نے نوجوان کی کم عمری کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا اور الگوردمز کی وجہ سے نوجوان نسل کی انتہا پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے کچھ عرصے میں ناکام بنائے گئے 70 فیصد سے زائد حملے ان نوجوانوں کی جانب سے تھے جن کی عمر 21 یا 22 سال سے کم تھی۔
یہ گرفتاری ایک وقت میں ہوئی ہے جب فرانس میں دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ نے عوام سے ہوشیار رہنے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دینے کی اپیل کی ہے۔

