واشنگٹن/برسلز: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کے لئے اپنے وزیر خارجہ کو نہیں بلکہ اپنے ذاتی دوست اور ارب پتی رئیل اسٹیٹ ڈویلپر اسٹیو وٹکوف کو کریملن بھیجا۔ وٹکوف، جو کہ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی نمائندے ہیں، اب روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے لئے ماسکو میں گفتگو کر رہے ہیں۔
برونکس میں پیدا ہونے والے وٹکوف، جنہوں نے امریکہ اور روس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں بھی اہم کردار ادا کیا، اب سعودی عرب میں امریکی اور روسی حکام کے درمیان پہلی براہ راست ملاقات کے لئے روانہ ہو رہے ہیں۔ اس ملاقات کا مقصد یوکرین جنگ کے خاتمے کے لئے مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ صدر کے نزدیک اسٹیو دنیا کے عظیم سوداگر ہیں۔ وٹکوف کی مذاکراتی حکمت عملی میں نرمی اور دباؤ دونوں کا امتزاج شامل ہے۔
اس دوران امریکی نمائندہ کیتھ کیلوگ نے کہا کہ وہ یوکرین کو صدر ٹرمپ کے مذاکراتی معاہدے کو قبول کرنے کا نہیں کہیں گے، جب وہ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے لئے کیو میں ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ یوکرین کے لئے کسی بھی معاہدے کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ صرف زیلنسکی کا ہوگا۔
واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے گفتگو جاری ہے، جس میں امریکی حکام روس اور یوکرین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
