امریکہ میں چالیس سال بعد ایک بار پھر اسٹار وارز کا آغاز ہو گیا ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 مئی 2025 کو اعلان کیا کہ وہ سابق صدر رونالڈ ریگن کے 1980 کی دہائی کے دفاعی منصوبے کو نئے سرے سے زندہ کر رہے ہیں، جس کا مقصد امریکہ کو میزائل حملوں سے بچانا ہے۔ اس منصوبے کا نیا نام “گولڈن ڈوم” رکھا گیا ہے اور اس کی نئی شکل اور اہداف متعین کیے گئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ اب اس گولڈن ڈوم کی دفاعی حکمت عملی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جو زمین، سمندر اور خلا میں موجود مختلف موجودہ دفاعی نظاموں پر انحصار کرے گی۔ یہ منصوبہ اسرائیل کے آئرن ڈوم سے مشابہت رکھتا ہے، جو فضائی حملوں سے بچاؤ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
ٹرمپ نے اس منصوبے کی جلد از جلد تکمیل کی خواہش ظاہر کی ہے اور کہا کہ یہ ان کے انتخابی وعدوں میں شامل تھا۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے دوسرے دور صدارت کے اختتام تک، جو 2028 میں ہوگا، یہ نظام مکمل طور پر فعال ہو جائے۔
امریکہ کی خصوصی جغرافیائی حیثیت کے پیش نظر، یہ منصوبہ خاص طور پر طویل فاصلے والے میزائل حملوں کی روک تھام کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ نظام دنیا کے کسی بھی کونے سے یا خلا سے داغے گئے میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا۔ اس کے لیے زمین کی فضاء کے علاوہ خلا میں بھی سنسرز اور انٹرسیپٹرز کی ضرورت ہوگی۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے اس منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ نظام کروز میزائل، بیلسٹک میزائل، ہائپرسونک میزائل اور ڈرونز کو بھی نشانہ بنا سکے گا۔ اس منصوبے کی نگرانی جنرل مائیکل گیٹلین کریں گے، جو امریکی اسپیس فورس میں سپیس آپریشنز کے نائب سربراہ ہیں۔
گولڈن ڈوم کی تخلیق کے لیے 175 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے اور اس کے لیے امریکہ کے دفاعی نظام، خصوصاً اسپیس فیلڈ میں، مختلف وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے اسپیس ایکس کی مدد سے سینکڑوں سیٹلائٹس خلا میں بھیجے جائیں گے جو میزائل کے آغاز کا پتہ لگا سکیں گے اور ان کو روکنے کی کوشش کریں گے۔
یہ منصوبہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک بڑے دفاعی اقدام کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں کینیڈا کو بھی شامل کیا جائے گا، جس کا امریکہ کے ساتھ طویل سرحدی تعلق ہے۔ یہ منصوبہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کرے گا۔
