افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستان کی فیصلہ کن کارروائی
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی جمعے کے روز اپنے عروج پر پہنچ گئی جب افغان طالبان حکومت کی جانب سے سرحد پر بلااشتعال فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں پاکستانی افواج نے مؤثر جوابی کارروائی کی۔ اطلاعات کے مطابق پاک فضائیہ نے کابل، قندھار اور پکتیا میں طالبان کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا اہم بیان
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے تصدیق کی کہ آپریشن غضب للہق کے تحت پاکستان نے افغانستان کے اندر حملے کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ افغان جانب کم از کم 133 طالبان ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ پاکستانی کارروائی میں طالبان کے دو کور ہیڈکوارٹر، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹر، دو گولہ بارود ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈکوارٹر، دو سیکٹر ہیڈکوارٹر اور 80 سے زائد ٹینک، توپ خانہ اور بکتر بند گاڑیاں تباہ ہوئی ہیں۔
پاکستانی افواج کی کارروائی کے اہم پہلو
- افغان طالبان کی 27 چوکیاں تباہ اور 9 چوکیاں قبضے میں لی گئیں
- پاک فوج نے پکتیا علاقے میں پانچ افغان چوکیوں پر قبضہ کر کے پاکستانی پرچم لہرایا
- پاکستانی فوج کے دو جوان شہید اور تین زخمی ہوئے
- افغان طالبان نے متعدد مقامات پر سفید پرچم بھی لہرا دیے
سرحدی کشیدگی کی تاریخی پس منظر
یہ تازہ کارروائی اس وقت سامنے آئی ہے جب گزشتہ ہفتے پاکستان نے افغانستان کی سرحدی علاقوں میں 80 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی کے معاملے پر تنازعہ اکتوبر 2025 سے جاری ہے، جب سرحدی جھڑپوں میں 200 سے زائد طالبان اور 23 پاکستانی جوان شہید ہوئے تھے۔
حالیہ دہشت گردانہ حملوں کا سلسلہ
پاکستان میں حالیہ ہفتوں میں اسلام آباد، باجوڑ اور بنوں میں خودکش حملے ہوئے ہیں، جن کی ذمہ داری افغانستان میں مقیم ٹی ٹی پی کے عناصر نے قبول کی ہے۔ اسلام آباد کا موقف ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ اپنی پالیسی اس وقت تک برقرار رکھے گا جب تک طالبان اپنی “گوریلا ذہنیت” ترک نہیں کرتے۔
بین الاقوامی ردعمل اور مستقبل کے امکانات
دنیا بھر کی حکومتوں نے دونوں ممالک سے پرامن حل کے لیے گفت و شنید پر زور دیا ہے۔ پاکستانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ ملک کی سلامتی اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ مستقبل میں سرحدی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور ضروری اقدامات کی تیاری کی جا رہی ہے۔
