یوکرین میں جولائی 2022 کے بعد شہریوں کے لیے سب سے مہلک مہینہ قرار، اقوام متحدہ کی تشویشناک رپورٹ
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نگراں مشن کے مطابق جولائی 202 میں یوکرین میں کم از کم 437 شہری ہلاک ہوئے، جو مئی 2022 کے کسی ایک مہینے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
یوکرین پری حملے کو ساڑھے چار سال گزر چکے ہیں، لیکن شہریوں پردد میں کمی نہیں آئی۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نگراں مشن (HRMM) نے جمعرات 13 اگست کو جاری کردہ رپورٹ میں بتایا کہ جولائی میں437 عام شہری مارے گئے اور 2,610 زخمی ہوئے۔ یہ تعداد جون کے مقابلے میں 30 فیصد اور گزشتہ سال جولائی کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ ہے۔
2>سالانہ اعداد و شمار میں خطرناک اضافہ
رپورٹ کے مط رواں سال کے آغاز سے اب تک 1,839 شہری ہلاک اور 10,638 زخمی ہوکے ہیں۔ یہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 44 فیصد اضافہ، جبکہ 2024 کی نسبت یہ تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہے۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی شدید قلتh2>
کیف حکومت نے پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز کی شد کمی کی اطلاع دی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں تنازعے کے باعث امریکہ کو ایران کے خلاف انی جنگ کے لیے ان سسٹمز کی ضرورت پڑ گئی، جس سے یوکرین کو ملنے والی سپلائی متاثر ہوئی۔
ماہرین کے مطابق صرف امریک میں تیار کردہ پیٹریاٹ جیسے جدید نظام ہی بیلسٹک میزائلوں کو گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ روس نے ان میزائلوں کا استعمال تیز کر دیا ہے جنہیں روکنا انتہائی مشکل ہے۔
روزانہ نئیلاکتیں اور عالمی ردعمل کا مطالبہ
یوکرین میں روسی حمل سے روزانہ نئی اموات کی خبریں آ رہی ہیں۔ جمعرات کو بھی دوہری مارے گئے۔ صدر ولودیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فار ایکس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئ کہا کہ روس کے “عامگوں” پر حملوں پر بین الاقوامی برادری ہمیشہ “مضبوط ردعمل” نیں دیتی۔
انہوں نے زور دے کر کہا: “اگر دنیا واقعی یپ میں اس جنگ کو ختم کرنا چاہتی ہے تو فضائی دفاعی امداد کو مضبوط کر ہوگا اور روس پر دباؤ بڑھانا ہوگا۔”
انسانی بح کی سنگین تصویر
یہ اعداد و شمار یوکرین میں جاری انسانی بحران سنگین تصویر پیش کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کا مشن مسلسل شہری علوں پر حملوں کی مذمت کرتا رہا ہے، لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیںہ عام شہریوں کا تحفظ اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
ہرین کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام کی کمی، خاص طور پر پیٹریاٹزائلوں کی قلت، شہری ہلاکتوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہے یوکرین کو اپنے شہروں کو روسی میزائل اور ڈرون حملوں سے بچے کے لیے فوری بین الاقوامی مدد کی ضرورت ہے۔
