پیرس: بد کی شام لاکھوں یورپیوں نے سورج گرہن کا دلکش نظارہ کیا،س میں اسپین کے کچھ علاقوں میں مکمل اور فرانس میں جزوی گرہن دیکھا گیا۔ یہ 1999 کے بعد یورپ سے نظر آنے والا پہلا ایسا وسیع گرہ تھا، جس نے فلکیات کے شوقین افراد اور عام شہریوں دونوں کو محظوظیا۔ تاہم، ماہرینِ امراضِ چشم نے خبردار کیا ہے کہ جن لوگوں نےغیر تصدیق شدہ حفاظتی عینکوں کے سورج کی طرف دیکھا، انہیں آنھوں کی صحت کے سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
س گرہن کو بغیر مناسب تحفظ کے دیکھنا آنکھوں کو انتہائی طاقتور بالائ بنفشی (الٹرا وائلٹ) اور زیریں سرخ (انفراریڈ) شعاعوں کے سنے لاتا ہے، جو کسی بھی طرح بے ضرر نہیں ہیں۔ فرانس کےہر اورسے میں ماہر امراضِ چشم پیٹرک سائمن لینوائل نے وضاحت کہ قرنیہ (کارنیا) جلنے سے مکمل طور پر متاثر ہو سکتا ہے،بکہ اس کے پیچھے واقع ریٹینا کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے
ریٹینا میں درد محسوس نہ ہونے کا خطرناک پہلوh2>
ریٹینا میں درد محسوس کرنے والے رسیپٹرز نہی ہوتے، اسے بہت سے لوگ گرہن دیکھنے کے دوران خطرے کو محسوسہیں کر پاتے۔ لیکن ریٹینا اور اس کے مرکزی حصے میکولا کو شد نقصان پہنچ سکتا ہے۔ لینوائل کے مطابق، “شروع میں تو کچھسوس نہیں ہوتا، لیکن بعد میں شدید جلن، آنکھوں کا سرخ ہ، پانی بہنا اور یہاں تک کہ نیند نہ آنا جیسی علامات ظاہرو سکتی ہیں۔” اینٹیبس کے ماہر امراضِ چشم جیک شوفلے بھی تصدیق کی کہ ریٹینا کا جلنا مکمل طور پر بے درد ہوتا ہے اورصان کے اثرات ظاہر ہونے میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں
ان علامات پر فوری توجہ دیں
>وزارتِ صحت نےہن دیکھنے کے بعد درج ذیل علامات پر خاص نظر رکھنے کی ہدایت کی:
- بصارت کے مرکز میں مستقل سیاہ دھبہ نظر آنا
- بصری تیکھا پن (ویژول ایکیوٹی) میں کمی
- ھندلا پن یا چہروں کو پہچاننے میں دشواری
- سیدی لکیروں کا ٹیڑھی یا لہراتی ہوئی دکھائی دینا>
- رنگوں کی پہچان میں تبدیلی محسوس ہونا
ف طور پر ماہرِ امراضِ چشم سے رجوع کریں
اگر مذکور علامات میں سے کوئی بھی ظاہر ہو تو بلا تاخیر کسی ماہر امراض چشم سے رجوع کریں۔ اگر فوری طور پر کوئی ماہر دستیاب نہ ہو تو ہنگ طبی امداد (سامو) کو کال کر کے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اکٹر سے ملاقات سے پہلے ماہرین ایک سادہ تقابلی ٹیسٹ کرن کا مشورہ دیتے ہیں: ایک آنکھ بند کر کے دوسری سے کسی چیز روشن پس منظر کو دیکھیں، پھر آنکھیں بدل لیں۔ یہ طریق یہ جاننے میں مدد دیتا ہے کہ ایک آنکھ دوسری سے زیادہ متاثروئی ہے یا بصارت میں کوئی بگاڑ پیدا ہوا ہے۔
مزید برآ، آنکھوں کو آرام دینا انتہائی ضروری ہے۔ اندھیرے میں رہیں،کرینوں اور تیز روشنی سے پرہیز کریں، اور ڈاکٹر کے مشورے کے بغ آنکھوں میں کوئی بھی قطرہ یا دوا استعمال نہ کریں۔
پبلکیلتھ فرانس کی ایک رپورٹ، جو 2000 میں شائع ہوئی اور 2019 میں ا ڈیٹ کی گئی، 1999 کے گرہن کے بعد فرانس میں 253 آنکھوں کے زموں کے کیسز درج کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق 147 مریضوں کوٹینا کو نقصان پہنچا، جن میں سے 17 کیسز میں بصارت کو شدید نقص پہنچا۔ ان میں سات افراد ایسے تھے جن کی دونوں آنکھوں کی بینائیاثر ہوئی۔ اس کے علاوہ 106 مریضوں میں قرنیہ کی سطحی چوٹیں پائی گئیں جو عارضی اور قابلِ علاج تھیں۔
ماہرین ک کہنا ہے کہ سورج گرہن جیسے نایاب مظاہر دیکھنے کےے ہمیشہ تصدیق شدہ حفاظتی عینکوں کا استعمال کیا جانا چاہی، کیونکہ آنکھوں کا نقصان اکثر ناقابلِ واپسی ہوتا ہے اور کا احساس بہت دیر سے ہوتا ہے۔
