نیویارک میں 27 ستمبر 2024 کو یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد یوکرین کی نایاب دھاتوں اور دیگر قدرتی وسائل کے معاہدوں کے لیے امریکی فوجی امداد کو مشروط کرنا تھا۔ اگرچہ زیلنسکی کو اس معاہدے پر کوئی اعتراض نہیں تھا، تاہم انہوں نے اس کی پہلی شکل پر دستخط کرنے سے انکار کیا کیونکہ انہیں اس میں ضمانتیں نظر نہیں آئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کی نایاب دھاتوں کی کان کنی کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کاروبار بھی ہے۔ ٹرمپ نے یوکرین کو فراہم کی جانے والی 65.9 بلین ڈالر کی فوجی امداد کو نایاب دھاتوں کے بدلے کا مطالبہ کیا ہے، اور اس کے بدلے میں امریکی کمپنیاں یوکرین میں بھاری سرمایہ کاری کریں گی۔
یوکرین میں نایاب دھاتوں کے ذخائر کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، اقتصادی ماہر وولودیمیر لانڈا نے بتایا کہ دنیا کی 68 فیصد نایاب دھاتیں چین میں نکالی جاتی ہیں جبکہ یوکرین میں یہ مقدار 1 فیصد سے بھی کم ہے۔ اس کے باوجود یوکرین کے پاس قیمتی دھاتوں جیسے نکل، کوبالٹ، گریفائٹ، لیتھیم، اور یورینیم کے ذخائر موجود ہیں۔
یوکرین کی حکومت نے حال ہی میں اپنے معدنی وسائل کی تشہیر کی ہے۔ یوکرینی صدر نے امریکی صدارتی امیدوار ٹرمپ کو ان وسائل میں سرمایہ کاری کی دعوت دی تھی، اور بعد میں “فتح کا منصوبہ” کے تحت معاشی شراکت داریوں کا ذکر کیا گیا۔ یوکرین کی معدنی دولت کو ملک کی تعمیر نو کے لیے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم، یوکرینی دھاتوں کے ذخائر کی اکثریت روسی زیر قبضہ علاقوں میں ہے۔ صدر زیلنسکی نے امریکی امداد کو تجارتی بنیادوں پر دینے کی کوشش کی ہے تاکہ روسی قبضے سے بچا جا سکے۔ اس سلسلے میں امریکی وزیر خزانہ بھی یوکرین کا دورہ کر چکے ہیں۔
یوکرین کے معدنی وسائل کی مارکیٹنگ کے لیے حکومت نے مختلف ممالک کے ساتھ مذاکرات شروع کر رکھے ہیں۔ فرانسیسی ترقیاتی اداروں کے ساتھ بھی حال ہی میں وڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے مذاکرات کیے گئے ہیں۔
یہ مذاکرات اس پس منظر میں ہو رہے ہیں جب کہ مغربی ممالک یوکرین کے ساتھ اپنی سرمایہ کاری کے مواقع کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یوکرین کی معدنی وسائل کی دولت کو عالمی مارکیٹ میں لانے کے لیے حکومت نے بیس سالہ لائسنس اور آن لائن نیلامی کی پیشکش کی ہے۔ تاہم، روسی زیر قبضہ علاقوں کے باعث ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے امن معاہدہ ناگزیر ہے۔
