امریکہ سے تجارتی کشیدگی: مودی کی بھارتیوں سے غیر ملکی مصنوعات ترک کرنے کی اپیل

نئی دہلی (رائٹرز)۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے شہریوں سے غیر ملکی مصنوعات کا استعمال ترک کرنے اور مقامی اشیاء کو اپنانے کی اپیل کی ہے۔ ان کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کے ساتھ بھارت کے تجارتی تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور مودی ‘خود انحصاری’ کی مہم پر زور دے رہے ہیں۔

یہ اپیل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی درآمدی اشیاء پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے بعد کی گئی ہے، جس کے جواب میں مودی ‘سودیشی’ یعنی ‘بھارت میں بنی ہوئی’ مصنوعات کے استعمال پر زور دے رہے ہیں۔ ان کے حامیوں نے امریکی برانڈز جن میں میکڈونلڈز، پیپسی اور ایپل جیسی بھارت میں مقبول کمپنیاں بھی شامل ہیں، کے بائیکاٹ کی مہم شروع کر دی ہے۔

پیر کو وسیع پیمانے پر کنزیومر ٹیکس کٹوتیوں کے نفاذ سے قبل قوم سے خطاب میں مودی نے کہا کہ “ہم روزمرہ استعمال کی بہت سی غیر ملکی مصنوعات استعمال کرتے ہیں، ہمیں ان سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا کہ “ہمیں وہ مصنوعات خریدنی چاہئیں جو بھارت میں بنی ہوں،” تاہم انہوں نے کسی خاص ملک کا نام نہیں لیا۔

1.4 ارب آبادی کا ملک بھارت امریکی صارفین کی مصنوعات کے لیے ایک بڑی مارکیٹ ہے، جنہیں اکثر امریکی آن لائن ریٹیلر ایمازون سے خریدا جاتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں امریکی برانڈز کی پہنچ چھوٹے شہروں میں بھی گہرائی تک پھیل چکی ہے۔ مودی نے دکانداروں سے بھی ‘میڈ اِن انڈیا’ مصنوعات کی فروخت پر توجہ دینے کی درخواست کی، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ اس سے ملک کی اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔ حالیہ ہفتوں میں کئی کمپنیوں نے مقامی اشیاء کی تشہیر میں اضافہ کیا ہے۔

توقع ہے کہ بھارت کے وزیر تجارت پیوش گوئل جلد ہی تجارتی بات چیت کے لیے واشنگٹن کا دورہ کریں گے، یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ باہمی تعلقات میں نرمی لانے کی کوششوں کے دوران ہوگا۔