ایران نے ہرمز کے آبنائے کو بحری جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کر دیا
امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعے کے حل کے لیے اگلے دور مذاکرات پیر کو اسلام آباد میں ہوں گے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق، ایران سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکراتی ٹیمیں اتوار کو دارالحکومت پہنچیں گی۔
ہرمز آبنائے کی بحالی پر عالمی رہنماؤں کا ردعمل
ایرانی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدر شی جن پنگ بھی اس فیصلے سے خوش ہیں۔ آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیزی نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے لیکن صورتحال کو نازک قرار دیا ہے۔
ایران کی جانب سے پاکستان کے کردار کی تعریف
ایران نے ثالثی میں پاکستان کے “موثر کردار” کی تعریف کی ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں روایتی ٹرانزٹ فیس نہیں لیں گے، بلکہ پارلیمنٹ آبنائے کی حفاظت سے منسلک نئے چارجز کے لیے قانون سازی کر رہی ہے۔
امریکی فوجی دعووں کی تردید
ایران نے امریکی دعوؤں کی تردید کی ہے کہ وہ اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر بیرون ملک منتقل کرے گا۔ قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا کہ یہ سرخ لکیر ہے اور ایران نے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا۔
امریکی بحریہ کے انکشافات
امریکی فوج کے مطابق، 21 بحری جہازوں نے ایرانی بندرگاہوں کے ناکہ بندی پر عمل کیا ہے۔ امریکی بحریہ نے اپنے ایئرکرافٹ کیریئر پر خوراک کی قلت کے دعووں کی بھی تردید کی ہے۔
ایران میں عوامی حمایت
ایرانی خواتین نے اپنے بچوں کے ساتھ ملک کی مسلح افواج اور حکومت کی حمایت میں ریلی نکالی۔ یہ مظاہرہ موجودہ بحران کے دوران قومی یکجہتی کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
