تہران/واشنگٹن: پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری ثالثی کی کوششیں رنگ لانے لگیں۔ ہفتے کے روز ہونے والی تازہ ترین پیش رفت میں ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) کو حتمی شکل دینے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران ہفتے کے روز تک معاہدہ قبول کر سکتا ہے۔
پاک فوج کی قیادت کی تہران میں اہم ملاقاتیں
چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) اور چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں ایران کی اعلیٰ ترین شہری اور عسکری قیادت سے طویل ملاقاتیں کرنے کے بعد ہفتے کی شام واپسی کے لیے روانہ ہو گئے۔ یہ دورہ مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مسلسل ثالثی کی کوششوں کا حصہ تھا۔
ایران کا واضح موقف: جوہری معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں واضح کیا کہ ایران اپنی قوم اور ملک کے حقوق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج نے جنگ بندی کے دوران اپنی صلاحیتیں دوبارہ بھرپور کر لی ہیں اور اگر امریکہ نے “بے وقوفی میں دوبارہ جنگ چھیڑی” تو اس کے نتائج “پہلے سے زیادہ کچلنے والے اور تلخ” ہوں گے۔
دریں اثنا، اعلیٰ ترین رہنما کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ “غنی شدہ یورینیم ایران میں ہی رہنا چاہیے”، جبکہ ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے جوہری معاملات پر گردش کرنے والی خبروں کو ساکھ سے عاری قرار دیا ہے۔
مذاکرات میں رکاوٹیں اور علاقائی حمایت
ایران نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امن مذاکرات میں بار بار اپنا مؤقف تبدیل کر رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دونوں فریق “بہت دور اور پھر بھی معاہدے کے بہت قریب” ہیں، لیکن واشنگٹن کے حکام اپنے موقف بدلتے رہتے ہیں۔
دوسری جانب، پاکستان کی قیادت میں ہونے والی اس ثالثی کو علاقائی سطح پر بھرپور حمایت مل رہی ہے۔ قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ اسی طرح اردن اور قطر نے بھی مشترکہ طور پر اس پاکستانی اقدام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
آبنائے ہرمز کا معاملہ اور دیگر پیش رفت
ایران نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اپنایا ہے اور کہا ہے کہ اس آبی گزرگاہ سے متعلق کوئی بھی میکنزم ساحلی ریاستوں ایران، عمان اور دیگر ممالک کے درمیان طے پانا چاہیے، اور امریکہ کا اس سے “کوئی تعلق نہیں” ہے۔
اس دوران اسرائیل نے جنوبی لبنان کے 10 دیہات کے رہائشیوں کو فوری انخلا کا انتباہ جاری کیا ہے، جبکہ سابق امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ آبنائے پر محصولات نہیں چاہتا اور وہ ایران سے یورینیم واپس لے گا۔
پاکستان کی کوششوں سے جاری ان مذاکرات کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ روبیو نے نئی دہلی میں صحافیوں کو بتایا کہ “اس بات کا امکان ہے کہ آج بعد میں، کل، یا چند دنوں میں، ہمارے پاس کچھ کہنے کو ہو”، انہوں نے “اچھی خبر” کی امید ظاہر کی۔
