اسلام آباد اور تہران: امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے، تاہم سفارتی محاذ پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کو اسلام آباد میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی، جسے انہوں نے انتہائی نتیجہ خیز قرار دیا۔ اس کے علاوہ، تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کی بحالی اور خلیج میں پھنسے کنٹینر بحری جہازوں کی صورتحال بھی خبروں میں ہے۔
عراقچی کی اسلام آباد آمد اور اہم ملاقاتیں
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے دورے کو ‘بہت نتیجہ خیز’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستانی حکام کے ساتھ ‘اچھی مشاورت’ کی۔ سرکاری خبر رساں ادارے IRNA کے مطابق، عراقچی نے کہا کہ اسلام آباد میں انہوں نے ‘ماضی کے واقعات اور ان مخصوص حالات کا جائزہ لیا جن میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری رہ سکتے ہیں’۔
اسلام آباد میں ان کی ملاقات پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر سے بھی ہوئی، جس میں علاقائی سلامتی اور موجودہ کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ عراقچی نے اس ملاقات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ایران کے گہرے تعلقات ہیں۔
عراقچی کا روسی صدر پوتن سے ملاقات کا ارادہ
عباس عراقچی اسلام آباد سے براہ راست روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ پہنچ گئے، جہاں وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کریں گے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات ‘جنگی پیش رفت کا جائزہ لینے اور تازہ ترین صورتحال کا تجزیہ کرنے کا ایک اہم موقع ہوگا’۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘میں پراعتماد ہوں کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ مشاورت اور ہم آہنگی اس سلسلے میں خاص اہمیت کی حامل ہوگی’۔
تہران میں پروازوں کی بحالی اور خلیج میں بحری جہاز پھنسے
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد عارضی طور پر معطل ہونے والی تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازیں بحال کر دی گئی ہیں۔ تاہم، بین الاقوامی میری ٹائم انٹیلی جنس کمپنی Lloyd’s List کے مطابق، خلیج میں کم از کم 43 کنٹینر بحری جہاز اب بھی پھنسے ہوئے ہیں، جن کی نقل و حرکت ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی وجہ سے متاثر ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحری جہازوں نے 38 بحری جہازوں کو ایران کی بندرگاہوں کی طرف جانے سے روک دیا۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں جاری
لبنان کی حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ حزب اللہ کے مطابق، کفرکیلہ کے مضافات میں تل النحاس کے مقام پر ایک گائیڈڈ میزائل فائر کیا گیا جس نے براہ راست نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ، اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ لبنان سے ایک ‘مخالف طیارہ’ شمالی اسرائیل میں داخل ہوا، جو بعد میں ‘گم’ ہوگیا اور اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
شمالی اسرائیل میں فضائی حملے کے سائرن بھی بجائے گئے، تاہم اسرائیلی فوج نے انہیں جھوٹا الارم قرار دیا۔ حزب اللہ کی جانب سے ایک ڈرون حملے کیڈیو بی جاری کی گئی ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ زخمی فوجیوں کو نکالنے کے دوران اسرائیلی فوجیوں پر دھماکہ خیز ڈرون سے حملہ کیا گیا۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں زندگی معمول پر
دو ہفتوں کی بندش کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی میں تمام بڑی سڑکیں کھول دی گئی ہیں اور عوامی اور سرکاری ٹرانسپورٹ کی خدمات بحال کر دی گئی ہیں۔ چیف ٹریفک آفیسر فرحان اصغر کے مطابق، راولپنڈی میں تمام سڑکیں مکمل طور پر کھول دی گئی ہیں اور ٹریفک معمول کے مطابق چل رہی ہے۔
مصر کی امید: ایران-امریکہ مذاکرات سے جنگ بندیمصری وزیر خارجہ نے پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فونک گفتگو میں امید ظاہر کی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات سے خطے میں جنگ بندی کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں امید ہے کہ یہ مذاکرات ایک پائیدار امن کا باعث بنیں گے’۔
