سلامتی کے خدشات کے پیش نظر فیصلہ
امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کے روز کراچی اور لاہور میں واقع اپنے قونصل خانوں سے غیر ہنگامی عملے اور ان کے اہل خانہ کو سلامتی کے خطرات کے پیش نظر پاکستان چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔
اسلام آباد میں واقع امریکی سفارتخانے نے جاری کردہ بیان میں کہا کہ “محکمہ خارجہ نے سلامتی کے خطرات کی وجہ سے لاہور اور کراچی میں امریکی قونصل خانوں سے غیر ہنگامی امریکی سرکاری ملازمین اور امریکی سرکاری عملے کے اہل خانہ کو پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔”
اسلام آباد میں سفارتخانے کی حیثیت برقرار
بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اسلام آباد میں واقع امریکی سفارتخانے کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
علاقائی تنازعے کے پس منظر میں فیصلہ
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ میں تازہ ترین تصادم کے بعد پاکستان سمیت دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔
- ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت متعدد اعلیٰ قائدین امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں شہید ہوئے۔
- ایرانی انقلابی گارڈز نے انتقام کی دھمکی دی ہے۔
- کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر ہونے والے مظاہرے کے دوران 11 افراد ہلاک ہوئے۔
ویزا سروسز معطل
اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے اور لاہور و کراچی میں قونصل خانے نے ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد تمام ویزا اور امریکی شہری خدمات منسوخ کر دی ہیں۔
امریکی مشن نے ابتدائی طور پر 2 مارچ کی تمام ویزا اور شہری خدمات کی ملاقاتیں منسوخ کی تھیں، جسے بعد میں 6 مارچ تک بڑھا دیا گیا ہے۔
مستقبل کی صورتحال
امریکی حکام نے سلامتی کے خدشات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں، لیکن یہ واضح کیا ہے کہ متاثرہ درخواست داروں کو ان کی ملاقاتوں کی دوبارہ بکنگ کے بارے میں رہنمائی فراہم کی جائے گی۔
اس وقت پاکستان میں امریکی سفارتی مشن کی معمول کی ویزا خدمات معطل ہیں، جس سے ہزاروں درخواست داروں کے سفر کے منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔
