ایران نے مسلح قزاقی کا جواب دینے کا اعلان کیا، اسلام آباد میں مذاکرات کا مستقبل دھندلا
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر منگل کے روز شدید خطرات منڈلانے لگے ہیں۔ امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایرانی پرچم بردار ایک تجارتی جہاز پر شمالی عرب سمندر میں قبضہ کر لیا ہے جبکہ ایران نے اس کارروائی کو “مسلح قزاقی” قرار دیتے ہوئے فوری جوابی کارروائی کا وعدہ کیا ہے۔
خلیج میں کشیدگی اور عالمی ردعمل
امریکی فوج کے ترجمان کے مطابق یہ جہاز ایران کے بندرعباس بندرگاہ کی طرف جا رہا تھا جس پر بحریہ نے گولیاں چلائیں۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ “ہمارے پاس جہاز کی مکمل تحویل ہے اور ہم اس پر موجود سامان کا جائزہ لے رہے ہیں۔” اس واقعے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوا جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں ہلچل مچ گئی۔
ایران نے مذاکرات سے انکار کر دیا
ایرانی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ تہران نے نئی امن بات چیت سے انکار کر دیا ہے۔ ایران کے مطابق امریکی ناکہ بندی، جارحانہ بیانات اور واشنگٹن کی بدلتی ہوئی پوزیشنز مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ “ایران کے تیل کی برآمدات کو روک کر دوسروں کے لیے آزاد سیکیورٹی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔”
اسلام آباد میں تیاریاں جاری
پاکستان، جو اس تنازعے کے اہم ثالث کی حیثیت رکھتا ہے، نے امریکی وفد کی آمد کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ دو امریکی سی-17 کارگو طیارے اتوار کو سیکیورٹی سازوسامان لے کر اسلام آباد ائیر بیس پر اترے۔ دارالحکومت میں بھاری ٹریفک بند کر دی گئی ہے اور سیرینا ہوٹل کے اردگرد خاردار تاروں کی باڑ لگا دی گئی ہے، جہاں گزشتہ ہفتے مذاکرات ہوئے تھے۔
چین کا امن کا مطالبہ
چین نے ہرمز کے آبنائے میں امریکی کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے کہا کہ “آبنائے ہرمز کی صورتحال نازک اور پیچیدہ ہے۔” انہوں نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ جنگ بندی معاہدے کا احترام کریں اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچائیں۔
- جنگ اب آٹھویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے جس نے عالمی توانائی کی سپلائی کو تاریخ کا شدید ترین دھچکا پہنچایا ہے۔
- ہزاروں افراد امریکی-اسرائیلی حملوں اور اسرائیل کی لبنان میں فوجی کارروائیوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
- ایران نے اسرائیل اور امریکی اڈوں والے عرب ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
یورپی اتحادیوں کا خدشہ ہے کہ واشنگٹن کی مذاکراتی ٹیم ایک سطحی معاہدے پر زور دے رہی ہے جس کے لیے مزید پیچیدہ تکنیکی مذاکرات درکار ہوں گے۔ جنگ بندی معاہدہ منگل کو ختم ہو رہا ہے اور اس وقت تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
