واشنگٹن: امریکی سینیٹ نے منگل کو ایک ڈرامائی ووٹ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد منظور کر لی، جس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کو براہ راست چیلنج کیا ہے۔ ریپبلکن اکثریت والے ایوان نے 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے یہ تاریخی اقدام اٹھایا، جو ایران کے ساتھ جاری غیر مقبول جنگ پر بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ متوازی قرارداد، جو اس ماہ کے آغاز میں ایوانِ نمائندگان سے منظور ہوئی تھی، صدر ٹرمپ کو ہدایت دیتی ہے کہ وہ امریکی مسلح افواج کو ایران کے خلاف یا اس سے متعلقہ دشمنیوں سے فوری طور پر نکالیں۔ ووٹنگ تقریباً پارٹی خطوط پر ہوئی، جس میں چار ریپبلکنز نے تمام ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر قرارداد کی حمایت کی۔ دو ریپبلکنز نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
علامتی فتح یا قانونی بحران؟
تاہم، یہ قرارداد زیادہ تر علامتی فتح کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ 1973 کے وار پاورز ایکٹ کے تحت، یہ اقدام صدر کے دستخط کے لیے وائٹ ہاؤس نہیں بھیجا جاتا، لیکن وائٹ ہاؤس پہلے ہی اصرار کر چکا ہے کہ یہ قانون سازی غیر آئینی ہے اور اس لیے اس کی پابندی لازمی نہیں۔
بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے سینئر فیلو اور آن لائن قانونی جریدے لاف فیئر کے سینئر ایڈیٹر سکاٹ اینڈرسن نے صورتحال کی پیچیدگی کو بیان کرتے ہوئے کہا، “ایگزیکٹو برانچ ممکنہ طور پر آئینی بنیادوں پر اسے نظر انداز کر دے گی، اور یہ واضح نہیں ہے کہ اسے نافذ کرنے کے لیے مقدمہ دائر کرنے کا قانونی جواز کس کے پاس ہوگا۔”
یہ ووٹ ایسے وقت میں آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔ 28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ کانگریس کے اندر بھ شدید بحث چھیڑ دی ہے، اور اب یہ قانونی ماہرین کے درمیان ایک متنازعہ سوال بن چکا ہے جس کا حتمی فیصلہ ممکنہ طور پر عدالتوں میں ہوگا۔
سینیٹ کے اس فیصلے نے امریکی قانون سازی اور صدارتی اختیارات کے درمیان ایک نئی کشمکش کو جنم دے دیا ہے، جس کے دور رس سیاسی اور قانونی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
